خطبات محمود (جلد 23) — Page 287
* 1942 287 خطبات محمود رکھ سکتے۔2 بعض لوگوں نے غلطی سے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ موت اور حیات تقدیری چیزیں ہیں جنہیں بدلا نہیں جاسکتا حالانکہ اس آیت سے یہ مراد نہیں بلکہ یہ اسی زمانہ کے متعلق ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص تقدیر جاری کی گئی تھی۔اللہ تعالی محمد صلی ا یم سے کہتا ہے تو بے شک بے سامان ہے، تیرے پاس ہتھیار نہیں، تیرے پاس فوجیں نہیں، تیرے پاس دشمنوں پر غلبہ پانے کے لئے کوئی ظاہری طاقت اور جتھا نہیں مگر ہم تجھے کہتے ہیں کہ تو بے سامان ہونے کی حالت میں ہی دشمن کے مقابلہ کے لئے نکل تاکہ ہم اپنی قدرت کا نشان دکھائیں کہ کس طرح ہم بے سامانوں کو ساز و سامان اور بڑے بڑے جتھے رکھنے والوں پر غالب کر دیا کرتے ہیں اور کس طرح کم تعداد والوں کے مقابلہ میں بڑے بڑے لشکروں کو تباہ کر دیتے ہیں۔اسی لئے صحابہ نے بے شک سامان استعمال کئے اور بے شک انہیں اجازت تھی کہ جن لوگوں کو گھوڑے میسر آسکتے ہیں وہ گھوڑے لے لیں۔جو تلوار میں اور نیزے خرید سکتے ہیں وہ تلواریں اور نیزے خرید لیں مگر ان سامانوں پر انحصار رکھنے کی انہیں اجازت نہیں تھی۔اگر کسی کو کوئی سامان مل جاتا تو وہ لے لیتا اور اگر نہ ملتا تو بغیر سامانوں کے ہی میدان جنگ کی طرف روانہ ہو جاتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کے ہمسایہ کے مکان کو آگ لگ جائے تو ایسی صورت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہی لوگ آکر آگ بجھائیں جو باقاعدہ اس فن کو سیکھ چکے ہوں بلکہ ہر شخص آگ بجھانے کے لئے دوڑ پڑے گا خواہ اسے آگ بجھانے کا طریق آتا ہو یا نہ آتا ہو حالا نکہ آگ بجھانا بھی ایک فن ہے جو سیکھے بغیر صحیح طور پر نہیں آتا۔جو لوگ یہ فن سیکھتے ہیں انہیں بتایا جاتا ہے کہ کسی جگہ آگ لگ جائے تو اسے کس طرح بجھانا چاہئے، کس قسم کی آگ پر پانی ڈالنا چاہئے اور کس قسم کی آگ پر مٹی ڈالنی چاہئے۔پھر جو لوگ یہ ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ان کے سروں پر ایسے وقت میں خود ہوتے ہیں تاکہ سر کے بال جلنے کی وجہ سے وہ گھبر ا کر وہاں سے بھاگ نہ جائیں۔اسی طرح انہیں پمپ مہیا کئے جاتے ہیں اور وہ سارے سامان انہیں دیئے جاتے ہیں جن کا آگ بجھانے کے لئے پاس ہوناضروری ہوتا ہے مگر جب تمہارے کسی ہمسایہ کے مکان کو آگ لگ جائے اور خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ظہور کا وقت آجائے تو کیا تم اس وقت یہ کہہ کر بری ہو جاؤ گے کہ ہم اس آگ کو کس طرح بجھائیں، ہم کوئی