خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 286

* 1942 286 خطبات محمود خدا تعالیٰ کے پاس جانے اور اس سے ملنے سے اتنا گھبراتا ہے کہ تُو نے زرہ پہن رکھی ہے اور تو ڈرتا ہے کہ کہیں میں مارا نہ جاؤں۔پس میں نے خیال کیا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو میں خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کے قابل نہیں رہوں گا اور میں خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ میں نے اس ڈر سے کہ کہیں مجھے موت نہ آجائے لڑتے وقت زرہ پہن لی تھی چنانچہ میں دوڑ کر اپنے خیمہ کی طرف گیا تا کہ میں زرہ کو اتار دوں اور ننگے بدن لڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دے دوں۔اب دیکھو یہ ایک حفاظت کا سامان تھا جو اس صحابی کو میسر تھا اور خدا تعالیٰ نے بھی اجازت دی ہوئی ہے کہ حفاظت کے سامانوں سے مومن کو کام لینا چاہئے مگر اس صحابی نے اس وقت اس سامان سے فائدہ نہ اٹھایا اور سمجھا کہ ہم اس وقت ایک ایسے میدان میں ہیں جو تقدیر کا میدان ہے۔اگر ہم اس تقدیر کے میدان میں ظاہری سامانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔چنانچہ وہ بغیر زرہ کے لڑے اور انہوں نے اپنے دشمن کو مار لیا۔تو مسلمانوں کا طریق یہ بتاتا ہے کہ وہ بعض دفعہ ظاہری سامانوں کو استعمال نہیں کرتے تھے اور نہ صرف سامانوں کو استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے ان کو پھینک دیتے تھے کہ یہ تقدیری میدان ہے تدبیری میدان نہیں۔پس جب تقدیری میدان آئے تو اس وقت سامانوں کو نظر انداز کر دینا جائز ہوتا ہے اور نہ صرف جائز ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ الہی حکم کے ماتحت ان سامانوں کو نظر انداز کر دینا ضروری ہوتا ہے اور اگر انسان ان سامانوں کو استعمال کرے تو وہ بے ایمان ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ سامانوں کو استعمال کرنا ناجائز تو نہیں ہو تا۔مگر ان سامانوں کو زیادہ اہمیت دینا نا جائز ہوتا ہے اور جو لوگ ان سامانوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کو ٹھکرانے والے قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ تقدیر کے میدان میں تدبیر سے کام لینا چاہتے ہیں اور تقدیر کے مقابلہ میں بھلا تدبیر انسان کو کیا فائدہ دے سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اگر تم مضبوط قلعوں اور بڑے بڑے پختہ محلات کے اندر بھی بیٹھے ہوئے ہو تب بھی اس زمانہ میں جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے موت کا فیصلہ کر دیا ہے اسے بہر حال موت کا شکار ہونا پڑے گا اور مضبوط قلعے پختہ محلات اسے موت سے محفوظ نہیں