خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 283

$1942 283 (22) خطبات محمود ایک دن ایسا ضرور آئے گاجب احمدیت کو تمام مذاہب کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا ( 17 جولائی 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج بھی میں خطبہ اسی تسلسل میں کہنا چاہتا ہوں جس تسلسل میں پچھلے دو خطبے میں نے پڑھے ہیں۔میں نے پچھلی دفعہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بعض افعال کا ظہور تقدیر کے ذریعہ ہوتا ہے اور جس وقت خدا تعالیٰ کی کوئی تقدیر ظاہر ہوتی ہے کسی عظیم الشان انقلاب یا کسی زبر دست پیشگوئی کے ذریعہ سے۔تو انسانوں کی جانیں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں یوں تو ہمیشہ ہی ہوتی ہیں مگر اس وقت خدا تعالیٰ خاص طور پر دخل دے دیتا اور اسباب کو ایک حد تک معطل فرما دیتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام اور مکہ والوں کے درمیان جو جنگیں ہوئیں ان جنگوں میں باوجود اس کے کہ صحابہ کم ہوتے تھے ، وہ بہت تھوڑی تعداد میں مارے جاتے تھے اور باوجود اس کے کہ دشمن بہت زیادہ تعداد میں ہوتا تھا وہ زیادہ مارا جاتا تھا یا اس کا خاصہ حصہ قیدی بن جاتا تھا۔اس کا باعث در حقیقت یہی امر تھا کہ اس زمانہ میں صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے خاص احکام جاری ہوئے تھے اور وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ یہ ہماری تقدیر کا میدان ہے، عام تدبیر کا میدان نہیں۔اگر تدبیر کا میدان ہو تا تو مسلمانوں میں موت زیادہ ہوتی اور کفار میں کم ہوتی لیکن تقدیر کا میدان ہونے کی وجہ سے سوائے ان لوگوں کے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے شہادت کی موت مقدر کی ہوئی تھی باقیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے