خطبات محمود (جلد 23) — Page 27
خطبات محمود 27 * 1942 فائدے اور برکتیں ہوتی ہیں وہاں اس میں ظلمات ، کڑک اور بجلی بھی ہوتی ہے۔اس سے کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات نقصان بھی ہوتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی بعثت کا حال ہے۔اس میں برکتیں بھی بہت ہوتی ہیں مگر کچھ تکلیف بھی پہنچتی ہے لیکن جس طرح بارش کی تکلیف کے باوجود اس کی ناقدری نہیں کی جاتی۔اسی طرح انبیاء کی بعثت کی بھی ناقدری نہیں کرنی چاہئے۔اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک مامور مبعوث فرمایا اور اس سے تعلق پیدا کرنے والوں کو کچھ تکالیف بھی پہنچتی ہیں، گالیاں سننی پڑتی ہیں، بعض کو گھروں سے نکالا گیا۔چونکہ انبیاء کی مثال بھی بادل کی سی ہوتی ہے ان کی بعثت کے ساتھ بھی اسی طرح کچھ تکالیف ہوتی ہیں جس طرح بارش کے ساتھ مگر بارش کی تکلیف کے باوجود سب یہی دعا کرتے ہیں کہ بارش ہو اور تھوڑی بہت تکالیف کے باوجود اس کی قدر کرتے ہیں۔اسی طرح انبیاء کے زمانہ کی بھی قدر کرنی چاہئے اور تکالیف سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ جو تکالیف ہیں ان کی قیمت اس وقت معلوم ہو گی جب نتیجہ نکلے گاجب فصل پکے گی تو معلوم ہو گا کہ یہ اندھیرے اور یہ کڑک اور برق کتنی قیمتی تھی۔اگر یہ نہ ہوتی تو زمیندار جب اپنے کھیت میں فصل پکنے پر جاتا تو سوائے تھوڑے سے سوکھے اور جلے ہوئے دانوں کے اس کے ہاتھ کچھ نہ آسکتا۔لیکن بارش ہونے کے بعد جب اس کی فصل پکتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اند ھیرا اور وہ کڑک اور وہ بجلی کتنی مفید تھی۔اسی کے نتیجہ میں اس کے ایک سال کے لئے غلہ پیدا ہوا، کپڑوں اور دوسرے اخراجات مثلاً شادیوں بیاہوں کے لئے سامان میسر آیا۔ایک ایک دانہ کے ستر ستر اسی اسی اور سو سو ہوئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ بھی کچھ تکالیف ہوتی ہیں مگر جو انسان ان تکالیف کے باوجود اس نعمت کی قدر کرتا ہے اس کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے وہ زمیندار جس کی فصل پر اچھی بارش برس چکی ہو۔پس بارش سے سبق سیکھنا چاہئے۔زمیندار طبقہ بوجہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے اور بوجہ اس کے کہ اسے قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بار بار پڑھنے اور سننے کا موقع نہیں ملتا۔ان کے ایمان عام طور پر تازہ نہیں ہوتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے