خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 249

* 1942 249 خطبات محمود خریدتا ہے وہ گراں خریدتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چیزوں میں ملونی شروع ہو جاتی ہے۔دودھ ہو تو اس میں پانی ملا دیتے ہیں اور ایسی ایسی تدبیریں کرتے ہیں کہ ان کا پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے مثلاً دودھ کی شناخت کا ایک آلہ نکلا ہوا ہے۔جو سیال چیز کا وزن بتا دیتا ہے۔اس کے ذریعہ سے معلوم کر لیا گیا ہے کہ خالص دودھ کا اتنا وزن ہے اور پانی کا اتنا۔پس اس کے ذریعہ سے اگر دودھ میں پانی ملا ہو تو معلوم کیا جاسکتا ہے۔مثلاً فرض کرو۔خالص دودھ کا وزن دس ڈگری ہے اور پانی کا وزن پندرہ ڈگری اور دودھ میں آلہ ڈال کر دیکھا جاتا ہے اور اس کا وزن ساڑھے بارہ ڈگری معلوم ہوتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آدھا دودھ ہے اور آدھا پانی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں بعض دوستوں نے بڑے جوش سے یہ انتظام کیا کہ قادیان میں جو دودھ فروخت ہونے کے لئے آئے۔اس کا پہلے آلہ سے ٹیسٹ کیا جائے کہ وہ خالص ہے یا نہیں۔کیونکہ ہمارے ملک میں ایک تو عام لوگوں نے یہ قانون بنایا ہوا ہے کہ دودھ میں برکت نہیں ہوتی۔جب تک دودھ دیتے وقت برتن میں کچھ پانی نہ ڈال لیا جائے پھر اس برکت کو بڑھانے کا خیال پیدا ہو تا ہے اور اور زیادہ پانی ملالیا جاتا ہے۔ہمارے نانا جان صاحب مرحوم بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس انتظام کا شوق تھا چنانچہ دودھ ٹیسٹ کرنے کا آلہ خریدا گیا اور اس کے مطابق دودھ کو دیکھا جانے لگا۔باہر سے جو شخص دودھ لے کر آتا، اسے بٹھالیا جاتا کہ پہلے دودھ کا امتحان کر الو پھر بیچنے دیا جائے گا۔چند دن تو اس کا فائدہ ہوا مگر آخر جہاں پکڑنے والے موجود ہوتے ہیں وہاں تدبیریں نکالنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر عقل کا مادہ رکھ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ اگر ایک طرف نیکی میں ترقی کر جاتا ہے تو دوسری طرف چوری اور ڈاکہ وغیرہ کے بھی نئے سے نئے طریق نکال لیتا ہے۔تنگل گاؤں کا ایک شخص بھی دودھ لا تا تھا، وہ کہا کرتا تھا کہ میرا دودھ بڑا خالص ہے۔آلے سے دیکھا جاتا تو وہ بھی اس کے خالص ہونے کی تصدیق کرتا۔پانچ سات دن تو اس کی خوب شہرت ہوئی مگر ایک دن کسی کو دودھ جو دینے لگا تو گڑوی میں سے مچھلی نکل آئی۔اس وقت یہ راز کھلا کہ وہ دودھ میں چھٹر کا پانی ملا کر لایا کرتا تھا۔اس نے سوچا کہ عام پانی تو ہلکا ہوتا ہے۔چھپڑ کا گندا پانی اگر میں ڈالوں تو اس کا پتہ نہیں لگے گا۔چنانچہ وہ