خطبات محمود (جلد 23) — Page 207
خطبات محمود 207 * 1942 اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کی محبت دلوں سے مٹارہا ہے۔پس ہر وہ شخص جو اس فلسفے سے متاثر ہوتا ہے وہ اتنا ہی اسلام کو چھوڑ دیتا ہے ، ہر وہ شخص جو اس مغربی تمدن سے متاثر ہوتا ہے وہ اسی قدر اسلام سے دور ہو جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو اس فیشن کو اختیار کرتا ہے جسے مغرب نے پیش کیا وہ اتنا ہی اپنے آپ کو اسلام سے نکال دیتا ہے اور اپنے عمل سے اسلام اور احمدیت کو کمزور کرنے کا موجب بنتا ہے۔کئی لوگ قسم قسم کے حیلے اور بہانے تراش کر یورپ کے فلسفے ، یورپ کے تمدن یا یورپ کے فیشن کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اپنے ان اعمال کے لئے دنیا کے سامنے بہانے پیش کرتے ہیں مگر ان بہانوں سے اسلام کی تقویت کسی صورت نہیں ہو سکتی اور نہ ان بہانوں سے ان کی بریت ثابت ہو سکتی ہے۔بہر حال ان کے اعمال کے نتیجہ میں اسلام اتنی ہی شکست کھا کر پیچھے ہٹتا ہے اور اتنا ہی دشمن اسلام پر حملہ کرنے کے لئے دلیر ہوتا ہے جتنا وہ اس کے اثر سے متاثر ہوتے ہیں۔جب ایک یورپین ایک مسلمان کو اپنے فیشن کے لحاظ سے یا اپنے تمدن کے لحاظ سے یا اپنے فلسفہ کے لحاظ سے یا اپنی سائنس کے لحاظ سے اس کے مقام سے ہٹا دیتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ اسلام شکست کھا رہا ہے اور وہ زیادہ جرات اور زیادہ دلیری سے اسلام پر حملہ کرتا ہے اور اس کی اس جرات اور دلیری کا ذمہ دار وہ مسلمان ہوتا ہے جس نے اس کی نقل کی۔پس اس کے نتیجہ میں اسلام کو جتنی شکست ہوتی ہے اس کا ذمہ دار وہی مسلمان ہوتا ہے اور وہ مسلمان کہلانے والا، اپنے اسلام پر الْحَمدُ للہ کہنے والا اور اپنے آپ کو غلط طور پر رسول کریم صلی الم کی غلامی کی طرف منسوب کرنے والا در حقیقت موذی، مجرم اور مفسد ہوتا ہے۔میں جب ولایت گیا تو ہمارے ایک مبلغ نے اپنے دل کی کمزوری کی وجہ سے جاتے ہی مجھے اس بات کی رغبت دلانی شروع کر دی کہ ہیٹ تو نہیں مگر کوٹ پتلون یہاں ضرور پہننا چاہئے ورنہ لوگوں پر بُرا اثر پڑے گا اور احمدیت کی تبلیغ کو نقصان پہنچے گا۔میں یہاں سے جاتی دفعہ اپنے لئے گرم پاجامے بنوا کر لے گیا تھا اور گرم پاجامے ہمارے ملک میں عام طور پر پتلون کے مشابہ ہوتے ہیں کیونکہ اگر زیادہ کپڑا لگایا جائے تو پاجامہ بو جھل ہو جاتا ہے۔عام طور پر ہمارے ملک میں لوگ لٹھے کی شلوار پہنتے ہیں گو بعض علاقوں میں تنگ پاجامے کا بھی رواج ہے