خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 19

* 1942 19 خطبات محمود اور احمدیت میں داخل ہونے والوں کا ثواب اس تحریک میں شامل ہونے والے دوستوں کو ملتا رہے۔کیونکہ یہ روپیہ ایک مرکزی تبلیغی فنڈ پر خرچ ہو گا اور اس فنڈ کے قیام میں جن لوگوں کا حصہ ہو گا یقیناً ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت تک ثواب عطا فرماتا رہے گا۔یہ اتنے بڑے فخر کی بات ہے کہ اگر ہماری جماعت کے احباب اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ لیں تو اپنی قربانیاں ان کو حقیر نظر آنے لگیں۔تم اپنے ایک لڑکے پر خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے دولڑ کے ہوں تو تم اور بھی زیادہ خوش ہوتے ہو۔اگر تمہارے تین لڑکے ہو جائیں تو تم اور زیادہ خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے پانچ یا دس لڑکے ہو جائیں تو تم خوشی سے اپنے جامعہ میں پھولے نہیں سماتے اور تم فخر سے اپنے دوستوں کے پاس ان کا ذکر کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میرے پانچ یا دس لڑکے ہو گئے ہیں۔اب میری نسل خوب چلے گی۔حالانکہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے مگر وہ دس کے دس بے اولا در ہے اور اس کی نسل کا خاتمہ ہو گیا۔اسی طرح ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے ان دس لڑکوں میں سے ہر ایک کے آگے پانچ پانچ سات سات، آٹھ آٹھ لڑکے ہوئے۔پھر ان لڑکوں کے لڑکے ہوئے اور اسی طرح نسل چلتی چلی گئی مگر سات آٹھ پشتوں کے بعد کوئی ایسی و با پڑی یا ایسی تباہی آئی کہ اس قوم کا نام و نشان تک مٹ گیا۔لیکن ہم نے ان لوگوں کے نام کو کبھی مٹتے نہیں دیکھا جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نام پر قربانیاں کی ہیں۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی نسلیں آج تلاش کرنے کے باوجو د نہیں مل سکتیں۔ممکن ہے وہ بالکل مٹ گئی ہوں اور بالکل ممکن ہے کہ ان فاتح بادشاہوں کی نسلیں آج چوڑھوں اور سائنسیوں کی شکلوں میں موجود ہوں لیکن ہم انہیں پہچان نہ سکتے ہوں کہ یہ فلاں بادشاہ کی نسل میں سے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بندے جو اس کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں ان کو ہم نے آج تک کبھی مٹتے نہیں دیکھا۔بلکہ جب ان کی قربانیاں انتہاء کو پہنچ جاتی ہیں تو بسا اوقات خدا تعالیٰ ان کی جسمانی نسلوں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو قربانیاں کیں۔ان کا تعلق دین سے ہی ہے۔ان قربانیوں کے بدلہ میں اگر خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کو دنیا میں ہمیشہ قائم رکھتا اور آپ پر قیامت تک درود اور سلام بھیجا جاتا تو یہی انعام کا فی تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں صرف روحانی انعام ہی نہیں دیا بلکہ