خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 177

177 $1942 (15) خطبات محمود جماعت کے غرباء کی امداد کے لئے غلہ کی تحریک فرموده 29 مئی 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ أَكُلُهَا دَابِمْ وَظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَى الكَفِرِينَ النَّارُ - 1 اور فرمایا:۔پہلے تو میں ایک دفعہ جماعت کے دوستوں کو قادیان کے غرباء کے لئے خصوصاً اور بیرونی جماعتوں میں بسنے والے غرباء کے لئے عموماً پھر غلہ کی تحریک کرتا ہوں اور یہ امر بھی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ جو تحریک میں نے کی ہے اس کے جواب میں جو دوست حصہ لیں وہ اس امداد کے متعلق صدقہ کی نیت نہ رکھیں بلکہ اپنے بھائیوں اور عزیزوں کی امداد کی نیت رکھیں۔اس اعلان کے کرنے میں میری دو غرضیں ہیں۔ایک تو یہ کہ قرآن کریم نے خرچ کرنے کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔ان اقسام میں سے ایک قسم خرچ کی اپنے دوستوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کی امداد ہے مثلاً والدین کی امداد ہے، بیوی کی امداد ہے یا بیوی کی طرف سے خاوند کی امداد ہے یا بھائی کی امداد ہے یا بچوں کی امداد ہے اور یہ اخراجات بھی اسلامی اخراجات کی اقسام میں سے نہایت ضروری اور نہایت اہم ہیں۔مگر یہ اخراجات ان معنوں میں صدقہ نہیں کہلاتے جن معنوں میں غرباء کو روپیہ دینا صدقہ کہلاتا ہے۔عربی زبان میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں صرف اتنی بات داخل ہے کہ اپنے اس خرچ کے ذریعہ سے اس تعلق کا ثبوت دیا جائے جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے۔