خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 150

* 1942 150 خطبات محمود میں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں مکہ میں آیا تو مکہ کے انہی سرداروں کے بیٹے آپ سے ملنے کے لئے آئے تا ان کی اطاعت کا اقرار کریں۔آپ زمین پر بیٹھے تھے جب یہ لوگ آئے تو آپ نے ان کا اعزاز کیا اور ان سے ہمکلام ہوئے۔اسی دوران میں ان غلاموں میں سے جن کو ان نوجوانوں کے باپ دادا نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور جن کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے تھے پاؤں میں رسیاں باندھ کر گلیوں میں گھسیٹتے تھے، ان پر کتے چھوڑ دیتے تھے ، گرم ریت پر لٹا کر سینہ پر وزنی پتھر رکھ دیتے تھے اور اس قدر مارتے تھے کہ ان میں سے بعض کی کھال ایسی سخت ہو گئی تھی جیسے بھینسے کی کھال ہوتی ہے اور جن کو ٹھوکریں مار کر بھی یہ خیال کرتے تھے کہ ہم نے ان کی عزت افزائی کی ہے۔ان میں سے ایک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنے آیا، حضرت عمرؓ نے ان سرداروں کے بیٹوں سے کہا کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو اور ان سے توجہ ہٹا کر ان سے باتیں کرنے لگے۔پھر انہی غلاموں میں سے کوئی اور آیا تو آپ نے پھر ان نوجوانوں سے فرمایا کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو اسی طرح مہاجرین اور انصار میں سے بھی بعض وہ لوگ جن کو مکہ کے رؤساء نہایت حقیر اور ذلیل خیال کرتے تھے، ایک ایک کر کے آتے گئے اور ہر ایک کے آنے پر حضرت عمر ان لوگوں سے کہتے کہ ان کے لئے جگہ چھوڑ دو حتی کہ ہٹتے ہٹتے یہ لوگ جوتیوں میں پہنچ گئے۔آخر جب یہ نوجوان مجلس سے باہر آئے تو ایک دوسرے سے کہا کہ آج ہماری جو ذلت ہوئی ہے وہ تم نے دیکھ لی۔اس پر ان میں سے ایک نے جو زیادہ سعید تھا کہا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ بہت ذلت ہوئی، مگر یہ قصور کس کا ہے؟ جس وقت ہمارے باپ دادا آنحضرت صلی لی ایم کو طرح طرح کے دکھ دیا کرتے تھے یہ لوگ آپ کے لئے سینہ سپر ہوتے تھے۔اس لئے اس نظام میں جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی یم کے ذریعہ قائم کیا ہے پہلی جگہ انہی لوگوں کو مل سکتی ہے ہم کو نہیں۔اس پر انہوں نے آپس میں پوچھا کہ اس ذلت کو دھونے کا کوئی ذریعہ بھی ہے۔آخر انہوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا چلو حضرت عمر سے ہی اس کا علاج بھی دریافت کرتے ہیں۔وہ پھر حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ آج کا نظارہ آپ نے دیکھ لیا۔آپ نے فرمایا ہاں۔