خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 133

* 1942 133 خطبات محمود اس صورت میں کیا جا سکتا تھا جب وہ دین کی خاطر یہاں آتے۔قرآن کریم نے انصار کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے مہاجرین کو اپنے مکان تک تقسیم کر دیئے۔مگر مہاجرین تو مدینہ میں دین کے لئے اپنی جانیں لڑانے کے لئے آئے تھے اور یہاں تو یہ حالت ہے کہ مرد تو باہر ہیں اور عورتوں بچوں کو یہاں بھیج رہے ہیں کہ قادیان والے ان کی حفاظت کریں۔وہ گویا قادیان والوں سے اس رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔اس صورت میں اگر یہ کہا جائے کہ قادیان والے اپنے مکانوں کے جائز کرائے بھی نہ لیں۔تو یہ ظالمانہ فیصلہ ہو گا اور اندھیر نگری چوپٹ راجہ والی مثال صادق آئے گی۔ہاں اگر یہاں لوگ دین کی خاطر جمع ہوں تو یہاں کے لوگوں سے قربانی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔جلسہ سالانہ کے موقع پر یہاں کے لوگوں سے ان کے مکان خالی کرائے جاتے ہیں تا مہمان ٹھہر سکیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا جاتا۔اسی طرح اگر کسی وقت قادیان کی حفاظت کا سوال پید ا ہو اور باہر سے لوگوں کو اس کے لئے بلایا جائے تو کیا ان کے لئے کرایہ پر مکان حاصل کئے جائیں گے۔اس وقت تو ہر مخلص سے امید کی جائے گی کہ وہ بغیر کرایہ کے اپنا مکان باہر سے آنے والوں کے لئے چھوڑ دے۔مگر جب یہاں رہائش کی غرض دنیوی ہو بلکہ یہ کہ یہاں ان کے بیوی بچوں کی حفاظت کی جائے تو یہ امید رکھنا کہ یہاں کے لوگ جائز طور پر مکانوں کا کرایہ بھی نہ لیں درست نہیں اور جو فائدہ لاہور، امر تسر اور دوسرے شہروں کے لوگ سالہا سال سے اٹھارہے ہیں۔یہاں کے لوگ اب بھی نہ اٹھائیں کسی طرح مناسب نہیں۔پس میں امور عامہ کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ ایک کمیٹی مقرر کی جائے جس کے نصف ممبر کرایہ داروں میں سے ہوں اور نصف مالکان مکانات میں سے۔کرایہ وغیرہ کے متعلق باہر سے بھی معلومات حاصل کی جائیں اور پتہ کیا جائے کہ عام رواج کیا ہے اور پھر یہاں کے مکانوں کے متعلق یہ معلوم کر کے کہ کتناروپیہ کسی مکان پر لگا ہے اور اس کے مطابق اس کے کرایہ میں مناسب اضافہ کیا جا سکتا ہے۔مکان کا کرایہ اس روپیہ کے مطابق ہونا چاہئے جو اس کی تعمیر پر خرچ آیا ہے۔اگر چہ اسے قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جاسکتا۔کیونکہ بعض دکانیں وغیرہ ایسے موقع پر ہوتی ہیں کہ گوان پر روپیہ کم خرچ آیا ہو مگر موقع کے لحاظ سے ان کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسی استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر باقی مکانوں کے کرائے ان کی