خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 125

* 1942 125 خطبات محمود بر بادی واقع ہو رہی ہے یہانتک کہ پانی بڑھتے بڑھتے اس مکان کے قریب آگیا ہے جس میں میں ہوں اور ہم سب اس کی چھت پر چڑھ گئے ہیں۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مشرق کی طرف سے تیزی کے ساتھ دوڑتے چلے آرہے ہیں اور فرماتے ہیں تم سب یہ دعا کرو اللهُمَّ اهْدَيْتُ بِهَذِيِكَ وَ أَمَنْتُ بِمَسِيحِكَ کبھی فرماتے ہیں بِنَبِيَّك تب تم اس سے بچو گے۔7 کہ اے میرے رب میں تیری ہدایت کے اس راستے پر چل رہا ہوں جو تیرے مسیح نے ہمیں دکھایا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ میں اس جماعت میں شامل ہوں جو تیرے مسیح کی جماعت ہے اس لئے اگر مجھ پر کوئی دکھ یا عذاب آیا تو لوگوں کے لئے ٹھو کر کا موجب ہو گا۔پس تو مجھے اس واسطہ اور طفیل اس عذاب سے بچا اور ہمیں لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بنا۔اس دن کے متعلق بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو موقع کے مناسب حال ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی دعا ہر لحاظ سے کامل، نقائص سے پاک اور بہت بڑی برکات کا موجب ہو گی۔بندے اپنی زبان میں جو دعائیں کرتے ہیں بے شک وہ زیادہ جوش پیدا کرنے والی ہوتی ہیں اور بے شک اپنی زبان میں دعائیں مانگنا جائز ہے مگر ان پر زیادہ زور نہیں دینا چاہئے۔زیادہ زور انہی دعاؤں پر دینا چاہئے جو خدا اور اس کے رسول نے بتائی ہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ روزانہ کوئی ایک نماز مخصوص کر کے اس میں ان دعاؤں کو کثرت کے ساتھ پڑھا کریں۔چاہیں تو خاموشی کے ساتھ اور چاہیں تو بلند آواز سے۔اسی طرح نماز کے علاوہ جب بھی دعا کا موقع ملے یہ دعائیں بار بار مانگی جائیں تا کہ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے دنیا کو بچائے اور ہماری جماعت کی خصوصیت سے حفاظت فرمائے اور تا ایسانہ ہو کہ تبلیغ کے سامان جو ہمیں میسر ہیں وہ ضائع ہو جائیں۔ہماری خطائیں اور کو تاہیاں ہمیں ترقی سے روک دیں اور اس طرح کچھ عرصہ یا ایک لمبے عرصہ کے لئے اس کے سلسلہ پر حرف آئے اور لوگ یہ کہیں کہ یہ سلسلہ بھی آخر نا کام ہو گیا۔وَ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ " 1 البقرة : 286، 287 2 : در ثمین اردو صفحہ 78۔مطبوعہ لجنہ اماءاللہ کراچی (الفضل یکم مئی 1942ء)