خطبات محمود (جلد 23) — Page 120
خطبات محمود 120 * 1942 ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی سزا کو برداشت کر لیتا ہے ورنہ اگر شرافت نفس ہو تو چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی انسان کے لئے نا قابل برداشت ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب کسی کو دوسرے سے محبت ہوتی ہے تو اس کی معمولی سی ناراضگی سے ہی اس کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کہتا ہے اس نے آنکھیں میری طرف نہیں پھیریں۔بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے اچھی طرح باتیں نہیں کیں، بعض دفعہ کہتا ہے اس نے مجھ سے باتیں تو کیں مگر ان میں بشاشت نہیں ہوتی تھی اور اسی بات کا اس کی طبیعت پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ غمگین ہو جاتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ ہمیں بڑی سزا نہ دیجئو ، چھوٹی سزا دیجئو بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہمیں سزا دیجو ہی نہیں چھوٹی نہ بڑی۔رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا در حقیت نتیجہ ہے اِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا کا۔یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوئی خطا سرزد ہو جائے اور ہم اسی طرح سزا کے مستحق ہو جائیں جیسے پہلی تو میں سزا کی مستحق ہوئیں مگر دنیا میں بعض مصائب ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر قصور کے آجاتے ہیں۔قصور ہمسایہ کا ہوتا ہے اور دکھ اسے پہنچ جاتا ہے۔قصور اس کے دوست کا ہوتا ہے اور سزا کا اثر اس پر پڑتا ہے۔اس لئے جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ دعا سکھائی کہ تم یہ کہا کرو کہ مجھ سے کوئی ایسا خطا یا نسیان نہ ہو جائے جس کی وجہ سے میں تیری سزا کا مستحق ہو جاؤں۔وہاں دوسری دعا یہ سکھائی رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه اے خدا ایسا نہ ہو کہ قصور تو میرے ہمسایہ کا ہو اور سزا مجھے مل جائے یا قصور دنیا کا ہو اور اس کی مصیبت کا اثر مجھ پر آپڑے۔جیسے اس وقت جو لڑائی ہو رہی ہے یہ نتیجہ ہے اس شکوے کا جو جاپانیوں کو انگریزوں سے ہے۔مگر گولہ باری ہندوستانیوں پر ہو رہی ہے۔انہیں شکوہ ہے انگلستان سے، انہیں شکوہ ہے امریکہ سے مگر اس کی لپیٹ میں ہندوستان آگیا ہے حالانکہ وہ ریڈیو پر برابر یہ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں ہندوستان والوں سے کوئی دشمنی نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر انہیں ہندوستان والوں سے کوئی دشمنی نہیں تو پھر ہندوستانیوں پر گولہ باری کیوں کر رہے ہیں۔اس کا جواب وہ یہی دیں گے کہ ہمیں تم سے کوئی دشمنی نہیں مگر چونکہ انگریزوں نے یہاں قبضہ کیا ہوا ہے اس لئے ہمارے لئے یہاں حملہ کرنا ضروری ہے۔تو معلوم ہوا کہ بعض دفعہ کسی ساتھی کی وجہ سے بھی انسان کو سزا مل جاتی ہے۔اس لئے