خطبات محمود (جلد 23) — Page 10
* 1942 10 خطبات محمود اپنی پوری طاقت کے ساتھ رو کو۔اور اگر پھر بھی دشمن کامیاب ہو جائے تو شہادت کا انعام پاؤ۔تو شہادت ان نعمتوں میں سے ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں۔مگر کسی کو دعوت پر مدعو کرنا یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔پس بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہے جن کو انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے۔اور بعض نعمتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں۔جو نعمتیں انسان کے اختیار سے باہر ہوتی ہیں ان کا مل جانا انسان کے نصیبے کی بات ہوتی ہے ورنہ کئی لوگ باوجود خواہش اور کوشش کے ایسی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں۔صحابہ کو ہم دیکھتے ہیں۔ان کی خواہش تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں شہید ہو جائیں اور انہوں نے مرتبہ شہادت حاصل کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر باوجود شدید خواہش رکھنے کے بعض شہید ہوئے اور بعض نہ ہوئے۔چنانچہ بعض کو تو فوراً ہی شہادت کا مقام حاصل ہو گیا اور بعض ساری عمر لڑائیوں میں شامل ہونے کے باوجود شہید نہ ہوئے۔امیر حمزہ جب جنگ کے لئے نکلے تو انہوں نے ابھی کوئی کام بھی نہیں کیا تھا کہ شہید ہو گئے حالانکہ وہ اسلام کے بہترین جرنیلوں میں سے تھے اور ابتدائے زمانہ اسلام میں صرف 2 شخص مسلمانوں میں بہادر سمجھے جاتے تھے۔ایک حضرت عمر اور دوسرے امیر حمزہ۔جب یہ دونوں اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے رسول کریم صلیالی نیلم سے درخواست کی کہ ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہم گھروں میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کریں۔جب کعبہ پر ہمارا بھی حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے اس حق کو حاصل نہ کریں اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی الی یکم جو کفار کو فساد کے جرم سے بچانے کے لئے گھر میں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کے ایک طرف حضرت عمر تلوار کھینچ کر چلے جا رہے تھے اور دوسری طرف امیر حمزہ اور اس طرح رسول کریم صلی الیم نے خانہ کعبہ میں علی الاعلان نماز ا اد ا کی 2 مگر باوجود اس کے کہ وہ اسلام کے بہترین جرنیلوں میں سے تھے۔مکہ کے رئیس تھے اور دشمنان اسلام ان سے ڈرتے تھے۔جب وہ پہلی مرتبہ لڑائی میں شامل ہوئے تو بغیر اس کے کہ وہ اپنی بہادری کے کوئی جوہر