خطبات محمود (جلد 23) — Page 97
* 1942 97 خطبات محمود کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر کوئی اندرونی فتنہ پیدا ہو تو ہمارے پاس کون سی طاقت اس کے مقابلہ کے لئے ہے۔ہم تو ہندوستان بلکہ پنجاب میں بھی اتنے نہیں جتنا کہ آٹے میں نمک ہو۔پس جہاں تک ظاہری اور مادی سامانوں کا تعلق ہے۔ہمارا خانہ خالی ہے لیکن جہاں تک روحانی سامانوں کا تعلق ہے وہ میں یا کوئی اور شخص پیدا نہیں کر سکتا۔ان کا ایمان کے ساتھ تعلق ہے اور ایمان ہر ایک کے دل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ایمان ایک ایسی چیز ہے کہ جب وہ دل میں پیدا ہو جائے تو دنیوی سامان اس کے مقابل پر پیچ نظر آنے لگتے ہیں۔دنیا میں انسان اپنی حفاظت کے سامانوں کی اسی واسطے جستجو کرتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں مگر مومن کا مقام بالکل جدا ہو تا ہے۔جہاں دنیا کے لوگ جان بچانے کی فکر میں ہوتے ہیں وہاں مومن جان دینے کی فکر میں ہوتا ہے اور جو تیار ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے دین کے لئے جان دے دے اسے اور کون سی طاقت ہے جو ڈرا سکتی ہے اور خائف کر سکتی ہے۔بہر حال اگر خطرہ پیدا ہو تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔مومن یا جیتے گا یا مرے گا اور اس کے لئے نہ جیتنے سے اور نہ مرنے سے ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔مومنوں کو دنیا ہمیشہ سے مجنون کہتی چلی آئی ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ ایک ایک پاگل دس دس عظمندوں پر بھاری ہوتا ہے۔انسان خطرہ کے وقت اپنی بہت سی طاقت اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ وہ ڈرتا ہے کہ لڑتے ہوئے میر اہاتھ ٹوٹ جائے گا یا پیر ٹوٹ جائے گا یا سر ٹوٹ جائے گا مگر پاگل کو یہ احساس نہیں ہوتا۔عقلمند اپنی حفاظت کے خیال سے اپنا سارا زور صرف نہیں کرتا لیکن پاگل کے سامنے اپنی حفاظت کا خیال نہیں ہوتا۔حضرت خلیفة المسیح الاول عورتوں میں قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں یہاں ایک استانی تھیں جو اب فوت ہو چکی ہیں۔ان کو جنون کا دورہ ہوا کرتا تھا۔ایک دن حضرت خلیفہ اول اس کمرہ میں جو ہمارے مکان کے مشرق سے گزرنے والی گلی کے اوپر ہے۔درس دے رہے تھے۔آجکل اس کمرہ میں میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ رہتی ہیں۔اس کمرہ کی وہی کھڑ کی اب تک قائم ہے۔حضرت خلیفہ اول وہاں درس دے رہے تھے کہ استانی کو جنون کا دورہ ہوا اور انہوں نے اس کھڑکی میں سے نیچے کود کر گرنا چاہا۔ہمارے گھر کی مستورات نے سنایا کہ حضرت خلیفہ اول نے اٹھ کر جلدی سے اسے پکڑا۔