خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 578

خطبات محمود 578 * 1942 کہ میں محمد علیا کی کل کا حل ہوں اور میری تمام خوبیاں آپ سے ہی حاصل کر دہ ہیں۔آپ کی یہ خوبیاں ذاتی تھیں۔اس لئے رسول کریم صلی یم کی صداقت کا ثبوت نہیں ہو سکتیں۔ہم ایسے احمقوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی خوبیوں کو دوسروں کی طرف منسوب کر دے یا کوئی عالم کسی جاہل کے متعلق کہے کہ یہ مجھے پڑھایا کرتا ہے۔ہم دنیا میں یہ تو دیکھتے ہیں کہ انسان دوسرے کی خوبی اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں مگر یہ کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ لوگ اپنی خوبی دوسرے کی طرف منسوب کر دیں تم یہ تو دیکھو گے کہ کسی شخص کو کوئی عمدہ سانکتہ سوجھ گیا۔تو اس سے سن کر کسی اور شخص نے اس نکتہ کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور کہا کہ یہ بات میرے فکر کا نتیجہ ہے مگر تم یہ نہیں دیکھو گے کہ کوئی شخص اپنا ہنر دوسرے کی طرف منسوب کر دے۔پس اگر کوئی احمق یہ بات کہے تو ہم اسے کہیں گے۔دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو اپنی خوبی دوسرے کی طرف منسوب کر دے اور اگر کوئی شخص اپنی خوبی کسی دوسرے کی طرف منسوب کرے گا تو وہ اسی وقت کرے گا۔جب وہ دیانت دار شاگر د ہو گا اور سمجھے گا کہ یہ میری خوبی ذاتی نہیں بلکہ میرے آقا اور میرے استاد کی تعلیم کا نتیجہ ہے اور جب وہ اس بات کو تسلیم کرے گا تو لا ز ما تمام خوبی اس کے آقا اور استاد کی ہی سمجھی جائے گی نہ کہ شاگرد کی۔تو ظل اصل چیز کے لئے اس کے ایک ثبوت کے طور پر ہوتا ہے۔اس نقطہ نگاہ کی روشنی میں حج کے ظل کا مطلب یہ بنتا ہے کہ گو آجکل ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف اطراف سے حج کے لئے جاتے ہیں مگر چونکہ سینکڑوں سالوں سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے اس لئے اب وہ زمانہ لوگوں کی نگاہ سے مخفی ہو گیا ہے جبکہ دنیا بھر کے لوگ مکہ مکرمہ کو نہیں جاتے تھے۔اب تو جو بھی پیدا ہوتا ہے یہی دیکھتا ہے کہ مسلمان ہر سال دنیا بھر سے حج کے لئے مکہ کو جاتے ہیں۔یورپ میں جو لوگ موجود ہیں وہ جب سے پیدا ہوئے یہی دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان حج کے لئے جاتے ہیں۔ان کے باپ دادا نے بھی یہی کہا کہ ہم یہی دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ لوگ مکہ کو جاتے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں جاوا اور سماٹرا کے لوگ بھی یہی دیکھتے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ حج کے لئے جاتے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔انہیں عادت پڑی ہوئی ہے کہ وہ ہر سال حج کے لئے مکہ کو جائیں۔چین کے لوگ بھی یہی دیکھتے ہیں کہ مسلمان