خطبات محمود (جلد 23) — Page 533
خطبات محمود 533 * 1942 پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔اب ہمیں ایک کھانا کھانا بھی کمزوری دکھائی دیتا ہے حالانکہ پہلے ہمارے لئے دو کھانوں کا چھوڑ نا سخت مشکل تھا۔اب ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اس سے بھی زیادہ سادگی اختیار کریں اور اب اگر کسی ضرورت کے موقع پر ہمارے دستر خوان پر دو کھانے آجاتے ہیں تو ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کھانا حلال کا نہیں رہا بلکہ حرام کا ہو گیا ہے۔پس یہ کمزوری جو دکھائی دیتی ہے محض اس لئے ہے کہ ہمارے دوستوں کے ایمان اتنے پختہ اور مضبوط ہو چکے ہیں کہ جن باتوں کو وہ پہلے قربانی سمجھا کرتے تھے ان کو وہ اب اپنی کمزوری نظر آتی ہے۔پس یہ خوبی کی بات ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ترقی کے میدان میں نیا قدم بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض حصوں میں جماعت نے کمزوری بھی دکھائی ہے مثلاً سینما دیکھنے کی ممانعت کے متعلق جو حکم میں نے دیا تھا۔اس سلسلہ میں بعض نوجوانوں کے متعلق میرے پاس شکایتیں پہنچتی رہی ہیں کہ وہ ممانعت کے باوجود سینما دیکھنے کے لئے چلے جاتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے جس سے ہماری جماعت کے نوجوانوں کو بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔در حقیقت سینما نے ہمارے ملک کی طبائع پر ایسا بُرا اثر ڈالا ہے کہ لوگ اسے دیکھنے کے لئے بیتاب رہتے ہیں اور میرے پاس تو جس وقت بعض نوجوان سینما دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے اور اس کے متعلق لجاجت اور خوشامد کرتے ہیں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے وہ یہ لجاجت کر رہے ہیں کہ ہمارا باپ ڈوب رہا ہے اسے بچانے کی اجازت دی جائے۔زمانہ کی ایک رو ہے جو طبائع پر اثر کر رہی ہے لیکن اس زبر دست خواہش کے باوجود ہماری جماعت میں ایسے نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو روکا اور باوجود اس کے کہ انہیں سینما دیکھنے پر مجبور کیا گیا انہوں نے سینما نہیں دیکھا۔ایک دوست نے ایک دفعہ لکھا کہ اسے بعض دوست پکڑ کر سینما د کھانے کے لئے لے گئے۔اس نے جانے سے انکار کیا تو انہوں نے بہانہ بنایا اور کہا کہ ہم سینما کو نہیں بلکہ سیر کو چلتے ہیں۔پھر انہی میں سے ایک شخص جا کر ٹکٹ لے آیا اور کہا کہ اب تو ہمارے پیسے بھی خرچ ہو گئے ہیں اب تو تمہیں ضرور سینمادیکھنا چاہئے مگر اس نے پھر بھی انکار کیا۔آخر وہ اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر سینما کی طرف لے گئے اور جبر اہال میں بٹھا دیا۔جب سینما شروع ہوا اور اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے تو معاً اس نے ،