خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 469

$1942 469 خطبات محمود حالانکہ تم نے نہ گئے دیکھے ہوں، نہ چنے دیکھے ہوں۔تو دونوں چیزوں کا ادب اور احترام کیا گیا ہے اس کا بھی اور اُس کا بھی۔اس تمثیلی زبان کو بعض لوگوں نے اتنی عظمت دے دی ہے کہ وہ اس کی تعظیم خد اتعالیٰ کے برابر کرنے لگ گئے چنانچہ جیسے مذہب میں تمثیلی زبانیں ہوتی ہیں اسی طرح سیاسیات میں بھی تمثیلی زبانیں ہوتی ہیں۔اور سیاسی تمثیلی زبان میں ہر قوم کا ایک جھنڈا ہو تا ہے جس کا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔دنیا میں آج تک مختلف اقوام اپنے اپنے جھنڈے رکھتی چلی آئی ہیں اور وہ ان جھنڈوں کو خاص عزت اور عظمت دیتی ہیں یہاں تک کہ جو قربانی اپنی قوم کی معزز ترین اور محبوب ترین ہستی کے لئے کی جاتی ہے وہی قربانی وہ قومیں ان جھنڈوں کے لئے کرتی ہیں اور قوموں کے لئے یہ بات بڑی ذلت کا موجب سمجھی جاتی ہے اگر ان کا جھنڈا کوئی دشمن چھین کر لے جائے۔وہ اس جھنڈے کو بچانے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرتی ہیں جتنی کوشش وہ اپنے آدمیوں کی جان بچانے کے لئے کرتی ہیں۔حالانکہ آدمی تلوار چلاتے ہیں، توپ چلاتے ہیں، دفاع کرتے ہیں، دشمن سے لڑتے ہیں مگر باوجود اس کے کہ جھنڈا بے جان ہوتا ہے چونکہ تمثیلی زبان میں اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ ہماری قوم کی عزت ہے اس لئے لوگ جھنڈے کے لئے آدمیوں کو جو کام کرنے والے ہوتے ہیں قربان کر دیتے ہیں اور اس کپڑے اور لکڑی کو بچانے کے لئے بیسیوں نہیں سینکڑوں جانیں قربان کر دیتے ہیں۔پھر بعض قوموں نے تو اس قدر غلو کیا ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کو بھی اس پر قربان کر دیا ہے مثلاً ہندوستان میں ہی قومی جھنڈا لہرایا جاتا اور پھر اسے سلام کیا جاتا اور اس کے آگے جھکا جاتا ہے حالانکہ سلام جاندار چیزوں کو کیا جاتا ہے چنانچہ بعض دفعہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں اختلاف کا ایک موجب یہ بات بھی ہو جاتی ہے۔مسلمانوں میں سے جو موحد ہیں وہ کہتے ہیں ہم جھنڈے کو سلام کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس پر ہند و ناراض ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں اپنی قوم کی محبت نہیں حالانکہ مومن اسی حد تک اپنے تعلقات رکھ سکتا ہے جس حد تک خدا تعالیٰ نے ان تعلقات کے رکھنے کا حکم دیا ہے۔وہ ملک کی خاطر یا قوم کی خاطر خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہیں جاسکتا۔غرض جھنڈے کو سلام کرنے کی غرض انہوں نے یہی رکھی ہے کہ لوگ اس سے وہ انتہاء درجہ کی محبت کریں جو محبت