خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 468

خطبات محمود 468 $1942 وہ ایک بکر اذبح کر رہا ہے۔غرض وہ کبھی لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا اور کبھی تمثیلی زبان میں ان کو بیان کرتا ہے۔ہم الفاظ میں سارے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں اور سارے کے سارے ایک نقطہ مرکزی پر جمع ہیں مگر کبھی ہم اس بات کو تمثیلی زبان میں ادا کرتے ہیں جبکہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں اور سارے ملکوں سے مسلمان خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوتے ہیں۔یہ حج کے لئے تمام مسلمانوں کا اکٹھا ہونا کیا ہے۔یہ تمثیلی زبان میں اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک ہیں۔اسی طرح ہم منہ سے کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے سارے کام چھوڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہم تمثیلی زبان میں بھی ایسا کرتے ہیں چنانچہ جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو تمام لوگ مسجد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جمعہ کے دن ارد گرد کے علاقہ کے لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔یہ مسجد میں مسلمانوں کا نماز کے لئے اکٹھا ہونا کیا ہے۔یہ تمثیلی زبان میں اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے اپنے تمام کام کاج چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔جب بھی اس کی طرف سے آواز آئے گی ہم فوراً اس پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو جائیں گے۔یہ جو تمثیلی زبان کے اشارے ہوتے ہیں ان کا بھی اسی رنگ میں اعزاز کیا جاتا ہے جس رنگ میں لفظی کلام کا اعزاز کیا جاتا ہے۔جس طرح ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم قرآن کریم کی وحی کا ادب اور احترام کریں اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ ہم شعائر اللہ کا ادب اور احترام کریں۔شعائر اللہ کیا ہیں؟ وہ در حقیقت ایک تمثیلی زبان ہیں۔صفا اور مروہ ایک تمثیلی زبان ہیں، منی ایک تمثیلی زبان ہے، مزدلفہ ایک تمثیلی زبان ہے۔غرض یہ سب تمثیلی زبان ہیں۔انبیاء کا وجود بھی اپنی ذات میں ایک تمثیلی زبان ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اتحاد کا ایک نقطہ ہوتے ہیں۔تو جہاں الفاظ کے احترام کا ہمیں حکم ہے وہاں خدا تعالیٰ کی تمثیلی زبان کے احترام کا بھی ہمیں حکم ہے۔جس طرح ہمیں یہ حکم ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کوئی جھوٹا منسوب مت کرو۔یہ مت کہو کہ خدا نے ہم کو یہ الہام کیا ہے حالانکہ خدا نے تم کو کوئی الہام نہ کیا ہو۔اسی طرح ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹے طور پر کوئی تمثیلی زبان بھی منسوب مت کرو اور یہ نہ کہو کہ خواب میں ہم نے گنے دیکھے ہیں یا چنے دیکھے ہیں کلام