خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 458

* 1942 458 خطبات محمود تھے۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ حکومت اسی کے سپرد کی جائے جو اس کا اہل ہو مگر آپ لوگوں نے اس کے سپرد کر دی ہے جو اس کا اہل نہ تھا۔آپ نے مجھے بادشاہ بنادیا ہے مگر میں اس کا اہل نہیں ہوں اس کے اہل وہی ہیں جن سے یہ حکومت چھینی گئی ہے۔اس لئے چاہئے کہ پھر انہی کے سپرد کر دی جائے۔بہر حال میں اسے چھوڑتا ہوں۔چاہو تو حقداروں کو ان کا حق دے دو اور چاہو تو کسی اور کو بادشاہ بنالو۔وہ یہ کہہ کر گھر میں گیا تو ماں اس سے لڑنے لگی اور اسے گالیاں دینے لگی کہ کمبخت تو نے ماں باپ کو ذلیل کر دیا۔اس نے جواب دیا اماں میں نے ماں باپ کو ذلیل نہیں کیا بلکہ عزت قائم کر دی اور خدا کے سامنے منہ دکھانے کے قابل ہو گیا۔4 آج لوگ گالی دیتے ہیں تو کہتے ہیں یزید کا بچہ حالانکہ اس نے تو اپنے عمل سے ثابت کر دیا تھا کہ وہ نیک ہے۔یہ کتنی بڑی نیکی تھی جو اس سے ظاہر ہوئی۔آج جرمنی اور برطانیہ کی جنگ ہو رہی ہے۔کیا ان میں سے کوئی ایسا کر سکتا ہے۔یہ دلی اتحاد کا نتیجہ تھا۔دل ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور یہ اتحاد اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب خیالات ایک ہوں۔اس کے بغیر دوسری چیز ظاہری ہے۔پس ظاہری تعریف سے ہمیں ہر گز خوش نہ ہونا چاہئے۔جب تک کہ تعریف کرنے والوں کے اور ہمارے خیالات ایک نہ ہوں۔جب تک وہ اسلام اور احمدیت کو ان معنوں میں نہ مان لیں جن معنوں میں ہم مانتے ہیں اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے جب تک کہ ہم ان کو اپنے اخلاص سے مجبور نہ کر دیں۔ایک جبر محبت کا بھی ہوتا ہے۔بچہ رو رو کر ماں سے چیز لے لیتا ہے۔یہ ہے تو جبر مگر کیا ماں اسے ناپسند کرتی ہے۔تم نے دیکھا ہو گا اگر بچہ کچھ دن نہ مانگے تو ماں کہتی ہے میرا بچہ مجھ سے خفا ہو گیا ہے۔جب وہ مانگتا ہے تو بعض دفعہ اس پر بھی خفا ہوتی ہے۔بعض جاہل مائیں دفعہ ہو جا، مر جا بھی کہتی ہیں لیکن جب بچہ نہیں مانگتا اور روٹھ جاتا ہے تو پھر بھی کہتی ہے کہ میرا بچہ کیوں چیز نہیں مانگتا۔بچہ ماں پر جبر تو کرتا ہے لیکن اگر وہ چپ ہو جائے تو بھی وہ پسند نہیں کرتی۔اسی طرح تبلیغ کا جبر ہے۔جب ہم لوگوں کو اس طرف توجہ کرنے پر مجبور کریں گے تو وہ بگڑیں گے ، ناراض ہوں گے۔بعض کہیں گے یہ تو پیچھے ہی پڑ گئے ، کیسے ذلیل لوگ ہیں، کتنے عجیب لوگ ہیں مگر روح کی آواز کہے گی یہ چیز ہے تو کچھ میٹھی۔اگر یہ جبر ہو تا رہے تو شاید حق کھل ہی جائے۔تو جب تک یہ جبر نہ کیا جائے بار بار