خطبات محمود (جلد 23) — Page 424
* 1942 424 خطبات محمود پھر ایسا ہی ہوا اس بزرگ نے پھر اٹھ کر دعا کرنی شروع کی اور بڑی گریہ وزاری سے دعا کی۔وہ بڑے جوش سے دعا میں مشغول رہے۔دعا میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور مضامین پھیلتے گئے۔یہ دیکھ کر اس مرید نے خیال کیا کہ آج تو یہ ضرور اللہ تعالیٰ سے اپنی بات منواہی لیں گے لیکن جب ختم کر چکے تو پھر وہی آواز زور سے آئی جسے اس مرید نے بھی سنا کہ جتنا چاہو زور لگالو میں تمہاری دعا نہیں سنوں گا۔مرید نے دل میں کہا کہ آج تو حد ہی ہو گئی ہے۔خیر وہ آج بھی خاموش رہا، تیسری رات جب وہ بزرگ اٹھے اور تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے لگے تو اس نے اٹھ کر ہاتھ پکڑ لیا کہ بس حضور جانے بھی دیجئے۔اب بہت ہو چکی ہے میں کل بھی اور پرسوں بھی جاگتا تھا اور دونوں رات میں نے وہ آواز سنی ہے۔آپ نے جتنا زور لگانا تھا لگا لیا اب بس ریں خواہ مخواہ وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔اس بزرگ نے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر الگ کر دیا اور کہا تم دو راتوں میں ہی گھبراگئے۔میں تو بیس سال سے یہی الہام سن رہا ہوں مگر گھبر ایا نہیں اور خدا تعالیٰ سے کہتا ہوں کہ میرا کام مانگتا ہے۔تیر ا کام قبول کرنا یا نہ کرنا ہے۔میں اپنا کام کرتا ہوں اور تُو جو چاہے کر۔میرا ایک ہی فرض ہے کہ تجھ سے مانگتا جاؤں اور تیرے دو اختیار ہیں۔چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو رد کر دے۔پس ان دونوں کاموں میں سے جو بھی تو کرے تو اپنا حق ادا کر رہا ہوتا ہے۔اس مرید نے کہا کہ پھر تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ بڑے ڈھیٹھ ہیں۔انہوں نے کہا جو چاہو سمجھو۔بہر حال میں اپنا کام کر رہا ہوں مجھے اس سے کیا غرض کہ دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں۔خدا تعالیٰ میر امعشوق ہے اور مجھے اس سے مانگنے میں لذت محسوس ہوتی ہے اس لئے مانگتا جاتا ہوں۔وہ میری موجودہ دعا کو پورا کر دے گا تو پھر بس تو نہیں کروں گا پھر کچھ مانگنے لگ جاؤں گا۔یہ کہہ کر وہ پھر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور اسی جوش سے دعائیں کرنے لگے مگر آج جب وہ فارغ ہوئے تو پھر الہام ہوا اور یہ الہام بھی مرید کو سنائی دیا۔وہ الہام یہ تھا کہ ہم نے تمہاری آج کی دعائیں بھی قبول کر لیں اور گزشتہ ہمیں سال میں جس قدر دعائیں کرتے رہے ہو ، وہ بھی قبول کر لیں۔تو جس کے دل میں عشق ہو تا ہے اسے کیا کہ کچھ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔وہ تو بس مانگتا ہی جاتا ہے۔اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ اپنے معشوق سے باتیں ہو جائیں، جھوٹے شاعر اپنے شعروں میں معشوق کو مخاطب کر کے کہا کرتے ہیں کہ