خطبات محمود (جلد 23) — Page 414
* 1942 414 خطبات محمود ہر روزہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی عزت اور رتبہ کو بڑھاتا جائے گا۔ادھر تو یہ کیفیت ہو گی جو لازمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ آخری روزوں میں اللہ تعالیٰ کا فضل زیادہ ہونا چاہئے اور دوسری طرف بندے کی حالت بھی ایسی ہو جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ جذب کر سکتا ہے۔انسان پہلا روزہ رکھتا ہے تو کہتا ہے ابھی بڑی منزل ہے ، پھر دوسر ا ر کھتا ہے تو گو دعائیں بھی کرتا ہے مگر دل میں سمجھتا ہے کہ مجھے دو روزے رکھنے کی توفیق مل گئی ہے اور میں نے فرض کا پندرھواں حصہ پورا کر دیا لیکن ابھی بہت سے روزے باقی ہیں جن میں میں عبادت کر سکتا ہوں اور دعاؤں کی تو فیق پاسکتا ہوں۔پھر وہ تیسر اروزہ رکھتا اور دعائیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آج میں نے اپنے اس فرض کا دسواں حصہ ادا کر دیا مگر پھر بھی بڑا موقع باقی ہے۔پھر پانچ روزے رکھ لیتا تو کہتا ہے کہ میں نے چھٹا حصہ ادا کر دیا مگر ابھی بڑے دن پڑے ہیں۔پھر دس پورے ہوتے ہیں تو وہ سمجھتا ہے، میں نے تیسر ا حصہ پورا کر دیا مگر ابھی دعاؤں کے لئے بہت دن باقی ہیں پھر جب میں روزے پورے ہوتے ہیں تو انسان کہتا ہے تین میں سے دو حصے گزر گئے اور وہ سوچتا ہے کہ دو حصوں میں میں نے خدا تعالیٰ کا کتنا فضل حاصل کیا۔بسا اوقات انسان اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتا بھی ہے اور بسا اوقات اپنے کو بالکل تہی دست پاتا ہے۔تب وہ سوچتا ہے کہ اب صرف دس دن رہ گئے ہیں۔اگر یہ بھی یو نہی گزر گئے تو معلوم نہیں دعاؤں کی قبولیت کے یہ دن پھر کبھی میسر آسکیں یا نہ آسکیں۔خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے ان دنوں میں جتنا ہو سکے زور لگالینا چاہئے۔تب وہ گھبر اکر اور کمر ہمت گس کر عبادت کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔غرض جس طرح میں نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اس کی عزت اور رتبہ بڑھتا جاتا ہے۔جب وہ اکیسواں روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا یہ بندہ اس سے پہلے بھی ہیں روزے رکھ چکا ہے۔اسی طرح جوں جوں رمضان خاتمہ کے قریب پہنچتا ہے، بندے کی گھبراہٹ بھی بڑھتی جاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر اب ان دنوں سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکا تو مجھ سے زیادہ بدبخت کون ہو گا کہ روزے آئے، گزر گئے اور میں یو نہی محروم رہا اور یہ دونوں چیزیں مل کر لازمی طور پر رمضان کے آخری دنوں کو خدا تعالیٰ کے افضال کا زیادہ جاذب بنادیتی ہیں اور قیاس کہتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْر انہی راتوں میں ہونی چاہئے