خطبات محمود (جلد 23) — Page 376
خطبات محمود 2 376 * 1942 سامنے اس لئے رکھی جاتی ہے تاکہ جب اسے خدا تعالیٰ کی زیارت نصیب ہو وہ اسے پہچان جائے۔گویا نماز کیا ہے ایک تصویر ہے، ویسی ہی جیسے کسی کا چھوٹا بچہ ہو اور وہ اسے بچپن میں ہی چھوڑ کر کہیں چلا جائے تو ماں اسے ہمیشہ اس کے باپ کی تصویر دکھاتی رہے کہ یہ تیرا ابا ہے، یہ تیرا ابا ہے تاکہ جب اس کا باپ گھر میں آئے تو وہ اس سے منہ نہ موڑلے اور یہ نہ کہے کہ میں نہیں جانتا۔یہ کون ہے۔چونکہ اس نے بار بار اپنے باپ کی تصویر دیکھی ہو گی اس لئے جب وہ باپ کو اصل صورت میں دیکھے گا تو فوراً اسے پہچان لے گا اور سمجھ جائے گا کہ یہ میر اباپ ہے۔اسی طرح نماز میں خدا تعالیٰ کی ہستی کی لفظوں میں تصویر کھینچی جاتی ہے کہ وہ رب ہے وہ رحمان ہے وہ رحیم ہے وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہے وہ انسان کو صراط مستقیم پر چلانے والا ہے۔وہ ضلالت اور غضب کے راستوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے ولا ہے۔وہ آپ اعلیٰ ہے ، وہ عظیم ہے، وہ سبحان ہے ، وہ اکبر ہے۔وہ تمام حمد وں کا مالک ہے ہر قسم کی تعریفیں اسی کے لئے ہیں ہر قسم کی قربانیاں اسی کے لئے ہیں اور ہر قسم کی عبادتوں کا وہی مستحق ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی ایک تصویر ہے، مثبت تصویر نہ کہ منفی۔جب کسی ہستی میں انسان کو یہ صفات نظر آجائیں گی وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ خدا ہے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ ایک غیر شکل میں بندوں کے سامنے ظاہر ہو گا اور انہیں کہے گا میں تمہارا خدا ہوں، تم مجھے سجدہ کرو، بندے استغفار کرتے ہوئے کہیں گے کہ تو ہمارا خد ا نہیں ہو سکتا، ہم تجھے سجدہ کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ ہم تجھے نہیں پہچانتے۔تب وہ اس شکل میں جو انہیں بتائی گئی تھی ظاہر ہو گا اور تمام بندے سجدے میں گر جائیں گے۔اس میں در حقیقت اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک قسم کی تصویر لوگوں کے سامنے رکھی ہوئی ہے تاکہ وہ اسے دیکھتے رہیں، دیکھتے رہیں اور دیکھتے رہیں اور اس کے اوصاف کو اچھی طرح یاد کر لیں تاکہ جب خد اتعالیٰ ان کے سامنے آئے ، اس جہان میں یا اگلے جہان میں وہ اسے فوراً پہچان لیں۔اب دیکھو۔دنیا میں کس کس طرح لوگ خدا تعالیٰ سے دوسرے کو پھیر نا چاہتے ہیں۔کوئی کہتا ہے حضرت کرشن خدا تھے ، کوئی حضرت رام چندر کو خدا کہتا ہے اور کوئی حضرت علیؓ کی خدائی کا قائل ہے۔مگر وہ جس نے نماز میں لفظی تصویر خدا تعالیٰ کی دیکھی ہوتی ہے وہ