خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 37

خطبات محمود 37 * 1942 دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو اس وقت ہماری خاص توجہ چاہتی ہیں۔میری مراد ان نقائص سے ہے جو جماعتوں کے بڑھنے سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ان میں سے بعض ہم میں سے بھی بعض میں پیدا ہو رہے ہیں اور وہ لوگ ایمان اور اس کے اثرات کے لحاظ سے اس پایہ کے نہیں جیسے کہ ہونے چاہئیں۔ایسے نقص اس وقت تک دور نہیں ہو سکتے جب تک کلّی طور پر ساری جماعت میں یہ احساس پیدا نہ ہو جائے کہ ایسا وجود جماعت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اصلاح کی طرف انسان کا پہلا قدم احساس کی درستی کے ساتھ اٹھتا ہے اور جب کسی قوم میں اصلاح کازبر دست جذبہ پیدا ہو جائے تو یا تو ایسے کمزور افراد اس میں آتے ہی نہیں اور اگر آتے ہیں تو اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔جتنا جذبہ کسی قوم میں مضبوط پیدا ہو جائے اتنا ہی وہ کمزور افراد کو برداشت نہیں کر سکتی۔مسلمانوں میں بعض باتیں ایسی ہیں جو بہت بڑی ہیں مگر ان کے متعلق ان میں صحیح جذبہ پیدا نہیں ہوا۔اس لئے ایسے افراد ان میں ہیں جو ان باتوں میں کمزوری دکھا جاتے ہیں۔مسلمانوں سے میری مراد اس پاک زمانہ کے مسلمان نہیں جب وہ صحیح طور پر اسلام پر چلتے تھے بلکہ میری مراد موجودہ زمانہ کے گرے ہوئے مسلمانوں سے ہے۔انہیں دیکھ کر مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ ان میں خدا تعالیٰ کی محبت اتنی نہیں جتنی رسول کریم صلی اینیم کی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ آج مسلمانوں میں رسول کریم صلی للی ایم کی اتنی محبت ہے جتنی ہونی چاہئے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی الم سے ان کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت سے بڑھی ہوئی ہے۔گو وہ بھی کم ہے۔نسبتی طور پر اگر کمی ہو تو وہ بھی ایمان کو قائم رکھنے والی چیز ہوتی ہے مگر وہ نسبت بھی آج ٹوٹ چکی ہے۔رسول کریم صلی ال نیم کی شان کے خلاف کوئی مسلمان کوئی بات نہیں کرتا مگر ایسے ہزاروں مسلمان ہیں جو خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف باتیں کر دیتے ہیں۔ہزاروں ، لاکھوں مثالیں اس قسم کی مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔میں جب حج کے لئے گیا تو اسی جہاز میں بعض مسلمان نوجوان بھی سوار تھے جو بیرسٹری کی تعلیم کے لئے انگلستان جارہے تھے اور وہ سارادن مذہب اور خدا تعالیٰ کی ذات کے خلاف حملے کرتے رہتے تھے۔خدا تعالیٰ کی ہستی اس کی صفات اور مذہب کی ضرورت کی ہنسی اڑاتے تھے۔