خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 33

$1942 33 خطبات محمود پہنچا دیا ہو۔اور یہی غرض ہے جس کے لئے تحریک جدید کا یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔میں نے اس سال خصوصیت کے ساتھ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس سال پہلے سالوں سے نمایاں اضافہ کے ساتھ وعدے کریں اور قربانی کے میدان میں گزشتہ سالوں سے آگے قدم رکھیں چنانچہ اس سال کی تحریک کے ابتدا میں جماعت نے جس جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ خیال کیا جا تا تھا کہ اس سال کی تحریک کا چندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال سے بہت بڑھ جائے گا مگر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بعد جماعتوں میں سستی پیدا ہو گئی ہے جو نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ممکن ہے یہ میری ہی غلطی ہو اور جماعتیں چندوں کی فہرستیں تیار کر رہی ہوں اور ان کا یہ خیال ہو کہ آخری تاریخ تک ہم اپنی لسٹیں بھجوا دیں گے لیکن بہر حال اس وقت تک وعدوں کے جو اندازے یہاں پہنچ چکے ہیں وہ نہ صرف زیادہ نہیں بلکہ پچھلے سال کے وعدوں سے کم ہیں۔دسمبر کے شروع حصہ میں اس سال کے وعدوں کی رقم پچھلے سال سے دس بارہ ہزار روپیہ زیادہ تھی۔لیکن اب آکر گزشتہ سال کے مقابلہ میں پانچ چھ ہزار روپیہ کی کمی ہو گئی ہے۔ممکن ہے اس ماہ کے آخر تک یہ کمی پوری ہو جائے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پچھلے سال سے موجودہ سال کے وعدوں کی رقم زیادہ ہو جائے۔لیکن سر دست ہم اپنی جماعت کے دوستوں کے موجودہ وعدوں سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں اور اگر خدانخواستہ یہی حقیقی اندازہ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کے ایک طبقہ میں خطرناک سستی پیدا ہو گئی ہے۔پس میں آج پھر جبکہ وعدوں کی میعاد کا وقت ختم ہو رہا ہے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جہاں جہاں تحریک جدید کے کارکن موجود ہیں وہ فوراً اس کام میں مشغول ہو جائیں اور اپنی اپنی جماعتوں کی لسٹیں مکمل کر کے بہت جلد مرکز میں بھجوا دیں۔اسی طرح وہ افراد جو اب تک تحریک جدید کے چندہ کے متعلق کوئی وعدہ نہیں لکھا سکے ان کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدے لکھا دیں۔قادیان کی جماعت باوجود دشمنوں اور منافقوں کے اعتراضات کے ہمیشہ قربانیوں کے میدان میں دوسروں سے آگے رہی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس سال بھی قادیان کی