خطبات محمود (جلد 23) — Page 301
* 1942 خطبات محمود 301 کے سامانوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کرنا اور اسی کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جانا، کیا یہ کوئی معمولی بات ہے۔جب تک دنیا خدا تعالیٰ کے عذابوں سے ہلا نہیں دی جائے گی اس وقت تک قلوب میں یہ تغیر پیدا نہیں ہو سکتا اور خدا آج کل اسی غرض کے لئے زمین کو ہلا رہا اور بار بار لوگوں کو جھنجوڑ رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی وہ ہمیں بھی بیدار کر رہا ہے تاکہ ہم بھی قربانی کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور بزدلی کو ترک کر کے جرآت اور بہادری سے کام لیں۔پس ہم پر یہ خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ اس انقلاب کے ذریعہ ہماری جماعت کے اندر قربانی کی روح پیدا کر رہا ہے۔ہر احمدی جو اس انقلاب سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے تیار کرتا ہے جو روحانی طور پر دوسرے مذاہب سے احمدیت کو پیش آنے والی ہے۔تم مت سمجھو کہ احمدیت کی فتح اسی طرح ہو گی کہ ایک احمدی یہاں سے ہوگا اور ایک وہاں سے۔یہ تو ویسی ہی جنگ ہے جیسے بڑی جنگ سے پہلے ہر اول دستوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑ پیں ہو جایا کرتی ہیں، ان معمولی ہر اول دستوں کی جنگوں کو بڑی جنگ سمجھنا غلطی ہے۔ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔تب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا اور تب دنیا کو معلوم ہو گا کہ کونسامذ ہب اس کی نجات کے لئے ضروری ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تلوار کی جنگ ہو گی مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مضبوط دلوں کی جنگ ہو گی اور دلوں کی مضبوطی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب شخص تک انسان خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔پس ہر جگہ جہاں کوئی ڈوب رہا ہو وہاں ایک احمدی کو سب سے پہلے گودنا چاہئے اس لئے بھی کہ وہ مسلمان یا سکھ یا عیسائی یا ہندو اس کا ایک بھائی ہے جس کو بچانا اس کا فرض ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات اور بہادری پیدا ہو۔ہر جگہ جہاں آگ لگ گئی ہو وہاں ایک احمدی کو اس آگ کے بجھانے کے لئے سب سے پہلے پہنچنا چاہئے۔اس لئے بھی کہ جس کے گھر کو آگ لگی ہے وہ خواہ مسلمان ہے یا ہندو ہے یا سکھ ہے یا عیسائی ہے ، بہر حال اس کا ایک بھائی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے نفس کو آگ میں کودنے کی مشق ہو اور جرات اور دلیری اس کے اندر پیدا ہو۔اسی طرح ہر جنگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو سب سے پہلے