خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 247

$1942 247 خطبات محمود سارے ہندوستان میں ہی نہیں، انجمنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ساری دنیا میں بھی کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی۔گور منشیں بے شک ایسا انتظام کرتی ہیں مگر وہ ٹیکس لگا دیتی ہیں اور جتنا چاہتی ہیں زبردستی ٹیکس وصول کر لیتی ہیں مگر یہاں کسی پر جبر نہیں کیا جا تا بلکہ لوگ اپنی خوشی سے چندہ دیتے ہیں۔اس لحاظ سے ہماری جماعت نے جو نمونہ پیش کیا ہے۔وہ ایک نہایت ہی قابل تعریف فعل ہے۔(2) دوسرا امر جس کی طرف میں قادیان کے دوستوں کو خصوصاً توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ غلہ کے سوا لبعض اور چیزیں بھی ایسی ہیں جن کے حصول میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ان کی طرف بھی ہماری جماعت کو توجہ کرنی چاہئے مثلاً چند ایام سے گھی اور دودھ کی سخت تکلیف محسوس کی جارہی ہے اور مدارس کے طالب علموں نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ انہیں دودھ ٹھیک نہیں ملتا۔ان کی شکایت تو اپنے افسروں کے متعلق ہے مگر بات یہ ہے کہ دوسروں کو بھی دودھ نہیں مل رہا اور جو لوگ اپنے پاس روپیہ رکھتے ہیں ان کو بھی مشکل پیش آرہی ہے۔اسی طرح گھی کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔ممکن ہے آگے چل کر اور بھی بڑھ جائے۔اس لئے میں قادیان کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جن کے لئے ممکن ہو اگر وہ گائیں یا بھینسیں رکھ لیں تو آئندہ آنے والے سخت ایام میں نہ صرف ان کو بلکہ ان کے بچوں اور دودھ پلانے والی ماؤں کو خالص دودھ اور گھی میسر آسکے گا۔دودھ پلانے والی ماؤں کا تو انحصار ہی دودھ پر ہوتا ہے کیونکہ دوسرے لوگ تو پھر بھی دودھ پینا چھوڑ سکتے ہیں لیکن اگر دودھ پلانے والی مائیں دودھ پینا چھوڑ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آئندہ نسل کو کمزور کر دیا جائے۔اسی طرح بچوں کو دودھ دینا ضروری ہوتا ہے اور ان کو دودھ نہ دینے کے معنی بھی یہی ہیں کہ ان کو کمزور کر دیا جائے۔پس اگر صاحب توفیق لوگ گائیں یا بھینسیں رکھنے لگ جائیں تو اس کے نتیجہ میں نہ صرف خالص دودھ اور گھی انہیں میسر آسکے گا بلکہ جو لوگ بھینسیں نہیں رکھ سکتے۔انہیں نسبتاً آسانی سے بازار سے دودھ مل جائے گا کیونکہ چیزوں کے ریٹ ہمیشہ اس طرح بڑھتے ہیں کہ جو