خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 233

* 1942 233 خطبات محمود ها الله سة کانپ اٹھتا ہے کہ نہ معلوم کل کو کیا ہو گا۔ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کی حفاظت فرمائے گا لیکن یہ ہمارا یقین ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے نہیں چھڑا سکتا۔جس طرح مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ اس کی حفاظت کرے گا جس طرح اسلام کی حفاظت کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا۔اسی طرح رسول کریم صلی الی یوم کی حفاظت کا بھی وعدہ اس نے کیا ہوا تھا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 1 مگر باوجود اس وعدہ کے ایسے ہی مقدس اور یقینی وعدہ کے جیسا کہ مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی حفاظت کے متعلق ہے۔پھر بھی صحابہ کرام اس وعدہ پر کفایت کر کے بے فکر نہیں ہو گئے تھے اور انہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا تعالیٰ خود آپ کو دشمنوں سے بچائے گا۔ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مدینہ میں آپ کے داخلہ سے لے کر آپ کی وفات تک برابر وہ آپ کے گھر کا پہرہ دیتے رہے۔مدینہ کے لوگوں یعنی انصار پر اللہ تعالیٰ بڑی بڑی برکتیں نازل کرے۔وہ بڑی ہی سمجھدار اور قربانی کرنے والی قوم تھی۔رسول کریم صلی ای کم مدینہ میں آئے تو انہوں نے فوراً اس بات کا فیصلہ کیا کہ اب آپ کی ذات کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے اور ہر رات الگ الگ گروہ آپ کے مکان پر پہرہ کے لئے آتا تھا۔پہلے تو انصار بغیر ہتھیاروں کے پہرہ کے لئے آتے تھے انہوں نے یہ خیال کیا کہ مدینہ اسلامی شہر ہے یہاں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہر قبیلہ باری باری پہرہ کے لئے اپنے آدمی بھیجتا تھا مگر وہ بغیر ہتھیاروں کے ہوتے تھے۔ایک رات رسول کریم صلی یہ کام اپنے گھر میں تھے کہ باہر آپ نے تلواروں اور نیزوں کی جھنکار سنی۔آپ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ انصار کا ایک گروہ سر سے پاؤں تک مسلح آپ کے مکان کے گرد پہرہ کے لئے کھڑا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیا بات ہے تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! لوگ تو بغیر ہتھیاروں کے پہرہ کے لئے آیا کرتے تھے مگر ہمارے قبیلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پہرہ کے انتظام کے معنے یہ ہیں کہ خطرہ کا احتمال ہے اور جب خطرہ ہو سکتا ہے تو اسے روکنے کے لئے ہتھیار بھی ضرور ہونے چاہئیں اس لئے ہم مسلح ہو کر پہرہ کے لئے آئے ہیں۔آپ نے ان لوگوں کے لئے دعا فرمائی اور اندر تشریف لے گئے اس کے بعد باقی قبائل نے بھی مسلح ہو کر پہرہ دینا شروع کر دیا۔ایک دفعہ مدینہ میں کچھ شور ہوا اور خیال تھا کہ شاید رومی حملہ کریں گے