خطبات محمود (جلد 23) — Page 227
* 1942 227 خطبات محمود مجھے خیال آیا کہ انگریزی فوج کمزور حالت میں ہے اور میں اپنے دل میں جوش محسوس کرتا ہوں کہ ان کی مدد کروں اس خیال کے آنے پر میں تیزی سے گھر کی طرف آتا ہوں اور گھر پہنچ کر میاں بشیر احمد صاحب کی تلاش کی ہے۔وہ مجھے ملے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ ہم فوج میں تو داخل نہیں ہو سکتے مگر ہمارے پاس را نکلیں اور بندوقیں ہیں۔وہ لے کر اپنے طور پر دشمن پر حملہ کریں۔یہ کہہ کر میں ان کو ساتھ لے کر گیا ہوں۔خواب کا نظارہ بھی عجیب ہوتا ہے اس وقت گولڑائی ہال میں ہو رہی ہے مگر ہال کی دیواریں حائل نہیں ہیں اور میں گویا اس کے اندر کا سب کچھ دیکھتا ہوں۔ہم دور کھڑے ہو گئے ہیں اور خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ ہم بندوقیں چلا رہے ہیں گو ظاہری بندوق چلانا مجھے یاد نہیں۔مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم نے فائر کئے ہیں ہمارے فائروں کے بعد انگریزی فوج کا قدم آگے بڑھنا شروع ہوا۔دشمن بھی سختی سے مقابلہ کرتا ہے اور ایک ایک انچ پر لڑائی ہو رہی ہے مگر میں نے دیکھا کہ انگریزی فوج دشمن کو دباتے ہوئے سیڑھیوں تک لے گئی اور اسے ہٹاتے ہوئے دوسرے سرے تک چڑھ گئی گویا اسے اپنے علاقہ سے باہر کر دیا اس وقت آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے یعنی کبھی تو دشمن انگریزی فوج کو دبا کر لے گیا اور کبھی انگریزی فوج اسے دباتی ہوئی اپنے علاقہ سے باہر لے گئی۔اور دو تین بار ایسا ہوا۔یہ وہ وقت تھا جب لیبیا میں انگریزی فوج نے کوئی پیش قدمی نہ کی تھی۔اٹلی کی فوجیں مصر میں تھوڑا سا آگے بڑھ آئی تھیں اور دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔دوسرے دن میں نے یہ رویا چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو سنایا اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں اس جگہ پر اس قسم کی جنگ ہو گی کہ کبھی تو انگریزی فوج دشمن کو دھکیلتی ہوئی دور تک لے جائے گی اور کبھی دشمن اسے دھکیل کر اس کے ملک میں گھس آئے گا اور یہ جو میں نے دیکھا ہے کہ ہم نے فائر کئے ہیں۔اس کا مطلب میں دعا سمجھتا ہوں اور بشیر احمد کا نام بشارت ظاہر کرتا ہے اور اس کی تعبیر میں نے یہ کی کہ ہو سکتا ہے ہماری دعاؤں سے اللہ تعالیٰ انگریزی فوجوں کو آخری دفعہ دشمن کو دھکیلنے کی توفیق دے دے کیونکہ گو ضروری نہیں کہ خواب میں جو آخری نظارہ دکھایا جائے فی الواقع بھی وہ آخری نظارہ ہو۔مگر کثیر الوقوع یہی امر ہے کہ جو آخری نظارہ نظر آئے وہی واقع میں بھی آخری ہوتا ہے۔بہر حال جتنا واقعہ میں نے رویا میں دیکھا بتا دیا۔