خطبات محمود (جلد 23) — Page 191
* 1942 191 خطبات محمود کہلا سکتا۔ایک شخص جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور پھر نماز نہیں پڑھتا اور نماز نہ پڑھنے کے یہی معنے نہیں کہ وہ کبھی نماز نہیں پڑھتا بلکہ سال بھر میں اگر وہ ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے یا دس سال میں وہ ایک نماز کو بھی ترک کر دیتا ہے تو وہ کسی صورت میں احمدی نہیں کہلا سکتا۔اگر اس کو یہ خیال ہو کہ میں نے ہمیں سال میں صرف ایک نماز چھوڑی ہے پھر کیا ہو گیا۔تو وہ ایک وہم میں مبتلا ہے۔اگر وہ بیس سال میں ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے تو پھر بھی وہ احمدی نہیں کہلا سکتا۔بلکہ جس وقت کوئی شخص کسی نماز کو چھوڑتا ہے اُسی وقت وہ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں ندامت اور اپنے فعل پر افسوس پیدا نہ ہو اور جب تک دوبارہ اس کے دل میں دین کی رغبت پیدا نہ ہو اُس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے حضور احمدی نہیں سمجھا جاتا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک جماعت نے نماز کی اس اہمیت کو نہیں سمجھا۔چنانچہ میرے پاس شکایتیں پہنچتی رہی ہیں کہ بعض لوگ نمازوں میں سست ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں پڑھتے۔میں اس نقص کو دیکھتے ہوئے خصوصیت سے قادیان کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ سے کہتا ہوں کہ نماز کے متعلق ان میں سے ہر شخص اپنے ہمسایہ کی اسی طرح جاسوسی کرے جس طرح پولیس مجرموں کی جاسوسی کا کام کیا کرتی ہے جب تک رات اور دن ہم میں سے ہر شخص اس طرف متوجہ نہ ہو کہ ہمارا ہر فرد خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، بچہ ہو یا جوان، نماز با قاعدگی کے ساتھ ادا کرے اور کوئی ایک نماز بھی نہ چھوڑے اس وقت تک ہم کبھی بھی اپنے اندر جماعتی روحانیت قائم نہیں کر سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں مثلاً میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ نماز کے وقت دکانیں کھلی نہیں ہونی چاہئیں۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دکان کھلی بھی رہے اور پھر اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ نماز باجماعت بھی ادا کرتا ہے۔پس میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلا تا ہوں کہ وہ نمازوں کے وقت دکانداروں کی نگرانی رکھیں اور جس شخص کی دکان کھلی ہو اس کی دکان پر نشان لگا دیں اور اسی دن اس کی میرے پاس رپورٹ کریں۔اگر نمازوں کے وقت کوئی شخص اپنی دکان کو کھلا رکھتا ہے تو اس کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ اس کے دل میں نماز کا احترام نہیں۔