خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 189

* 1942 189 خطبات محمود خائف تھا، نہ ان رقعوں سے گھبراتا تھا اور نہ منافقین کی کمزوری سے۔اور جانتا تھا کہ یہ سب باتیں ہوا کے جھونکوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔جو آتا ہے اور اُڑ جاتا ہے اور اس کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہتا۔اتنے بڑے نشان دیکھ کر بھی تم لوگ کیوں اپنے عقائد اور اعمال میں مضبوط نہیں ہوتے۔کسی چیز سے نہ ڈرو۔خوب یاد رکھو کہ کسی انسان کا رزق اور عزت کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔عزت اور ذلت بھی اس کے ہاتھ میں ہے اور آخری فیصلہ اسی نے کرنا ہے۔چھوٹی عدالتوں کے فیصلے کچھ حقیقت نہیں رکھتے اور اصل فیصلہ ہائی کورٹ کا ہوتا ہے اور ہمارا ہائی کورٹ خدا تعالیٰ ہے۔اگر تم سچائی پر قائم رہو، متقی بن جاؤ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُكُلُهَا دَابِهُ وَظِلُّهَا کہ اس کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور سایہ رحمت بھی دائمی ہو گا۔پس تم متقی بن جاؤ، اپنے ، اپنی اولاد کے ، اور اپنے ہمسایوں کے اخلاق درست کرو، ان کو سچائی پر قائم کرو اور غیر اللہ کا ڈر دلوں سے نکال دو تا تمہارے پھل اور تمہارے اچھے کاموں کے نتائج اچھی صورت میں ہمیشہ کے لئے جاری رہیں اور تمہاری نسلیں بھی ہمیشہ کے لئے جاری رہیں۔ظل کا لفظ اگر انسان کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے اولاد کے بھی ہو سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرو اور عارضی تکالیف کے خیال سے سچائی کو کبھی نہ چھوڑو، کسی سے دھوکا نہ کرو، کسی سے جھوٹ نہ بولو اور متقی بن جاؤ اور پھر یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ نہ صرف تم نقصان سے بچائے جاؤ گے بلکہ تمہاری اولادیں بھی بچائی جائیں گی۔“ (الفضل 5 جون 1942ء) 1: الرعد : 36 :2 بخاری کتاب النفقات باب فضل نفقة الرجل على الاهل 3 بخاری کتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسألة 4: پیدائش باب 16 آیت 12 5: الفاطر: 25 6 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 285۔مطبوعہ مصر 1936ء