خطبات محمود (جلد 23) — Page 187
* 1942 187 خطبات محمود مگر جب کسی آیت کا کوئی ٹکڑا الہام ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ساری آیت اس میں شامل ہے۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے کہ متقی بنے۔بعض لوگ معمولی معمولی باتوں میں جھوٹ بول دیتے ہیں، بعض لوگ آجکل غلہ کے معاملہ میں بھی بد عہدی کر دیتے ہیں، بعض ایسے لوگوں سے خریدتے ہیں جن سے خریدنے کی ممانعت ہے۔اگر تو ہماری حالت افراد کی ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہمارے ہزار میں سے صرف ہمیں ایسے ہیں اور اس بات پر ہم فخر کر سکتے تھے مگر ہمیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ساری دنیا کو شامل کرو اور پھر سارے نیک بنو۔پس میں دوستوں کو پھر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ متقی بنو، سچائی کو شعار بناؤ جو کام کرو اس میں سچ بولو، ڈرو نہیں۔ڈرنے کی آخر بات ہی کیا ہے۔انسان ڈرتا اس وجہ سے ہے کہ سمجھتا ہے میرا روپیہ ضائع ہو جائے گا، جان چلی جائے گی یا عزت پر حرف آئے گا لیکن سوچنا تو چاہئے کہ وہ روپیہ آیا کہاں سے تھا، جان کس نے دی تھی اور عزت خدا تعالیٰ کے سوا کس کے ہاتھ میں ہے۔پس مومن کو چاہئے کہ نڈر ہو اور سوائے خدا تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈرے۔جان مال اور عزت، کسی چیز کے ضائع ہونے سے خوف نہ کھائے کہ یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔حضرت مسیح ناصری کو جب دشمنوں نے صلیب پر لٹکایا تو دنیا یہ خیال کرتی تھی کہ آپ کی ذلت انتہا کو پہنچ گئی۔آپ کو جس مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا وہ آپ کا ہمدرد تھا اور اس نے کوشش کی کہ آپ اپنے دعوی کو ذرا نرم کر دیں مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔محمد (صلی اللی) سے کفار نے یہ کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ شرک کر دیا اسلام چھوڑ دو بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے دیو تاؤں اور معبودوں کو بُرا نہ کہو۔یہ تجویز بظاہر اتنی معقول تھی کہ ابو طالب جو آپ کے چاتھے انہوں نے بھی ابتداء معقول سمجھا، کفار نے ابو طالب کو دھمکی بھی دی کہ اگر تم اتنی سی بات بھی نہ منوا سکے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم بھی محمد (صلی ال کے ساتھ ہو اور ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہو۔ابو طالب نے آنحضرت مصلی کم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے آج تیری قوم میرے پاس آئی تھی۔وہ لوگ بڑے دکھی ہیں اور وہ کہتے تھے کہ آخر محمد (صلی لینی ہم میں سے ہی ہے۔اسے ہمارے معبودوں کو بُرا کہنے میں کیا مزہ آتا ہے۔ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اس سے صلح کر لیں۔اپنے آپ کو اس کے ماتحت کر دیں اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیں اور اس سے یہ نہیں چاہتے