خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 104

* 1942 104 خطبات محمود میں نے یونان کی تاریخ کا بھی ایک حصہ پڑھا ہے مگر سپارٹا کے بہادروں کا ذکر یاد ہے۔گو وہ کافر تھے مگر خدمت وطن کے جذبہ کے ماتحت بہادری دکھائی اور ان کا نام روشن ہو گیا۔تو جو ایمان کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی یاد کو اللہ تعالیٰ خود تازہ کر دیتا ہے۔دیکھو موسیٰ عمران جن کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہے بغیر ہماری زبانیں آگے نہیں گزر سکتیں۔کیسے غریب والدین کا بیٹا تھا۔حتی کہ وہ روٹی کے لئے فرعون کے گھر میں پرورش پانے پر مجبور تھا۔ناصرہ کے بڑھئی کے بیٹے کو آج بھی ہم عیسی علیہ السلام کہے بغیر نہیں رہ سکتے۔عراق کے ایک معمولی ثبت بیچنے والے تاجر کا بیٹا ابراہیم ؟ کون سا دن ہے جب مسلمان دن میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہوئے اس کا نام نہیں لیتے اور كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلَى أَلِ ابْرَاهِيمَ نہیں کہتے۔دیکھو د نیوی حیثیت سے ان لوگوں کی کیا شان تھی۔انہیں دنیوی لحاظ سے کوئی بھی حیثیت حاصل نہ تھی مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں عزتیں دی گئیں۔ان کے بعد بڑے بڑے بادشاہ آئے جنہوں نے دنیا کو تہ تیغ اور زیر نگیں کیا مگر آج ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا یا ان کے نام سے کسی کے دل میں کوئی جوش پیدا نہیں ہو تا مگر وہ چھوٹے سے تاجر کا بیٹایا ایک معمولی پیشہ ور کا بیٹا جس کا باپ غالبار عمیں کے حکم کے مطابق اینٹیں پا تھا کرتا تھا۔اس وقت بھی ہمارے سردار ہیں اور آج بھی ہماری زبانیں ان کو دعائیں دیئے بغیر آگے نہیں گزر سکتیں۔یہ کون سی چیز ہے جس نے ایک معمولی سوداگر کے لڑکے یا ایک اینٹیں پاتھنے والے کے بیٹے کو ہمارا سر دار بنا دیا۔یہ خدا تعالیٰ کی محبت ہی تھی اور اس کی نازل کردہ برکات۔جن سے ان لوگوں کو ایسی عزت ملی جو دنیا کے بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوئی۔آج انگریز اور جرمن لڑتے ہیں۔یہ کتنی بڑی بڑی سلطنتیں ہیں مگر یہ دونوں ہی آج بھی اس بڑھئی کے بیٹے کو سر داری کا تاج پہناتے ہیں۔جرمن کہتے ہیں کہ سچے عیسائی ہم ہیں اور انگریز کہتے ہیں ہم ہیں۔جرمن عیسائیت سے باغی ہیں آج بھی دیکھ لو اتنی بڑی بڑی حکومتیں جس سے بغاوت کا طعنہ دے کر اپنی اپنی قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف اکساتی ہیں وہ وہی بڑھئی کا بیٹا ہے اور اس سے بغاوت کا طعنہ دے کر اکسانے والے وہ ہیں جن کے پاس ہنر اروں طیارے اور بے شمار سامان جنگ ہے مگر اتنے ساز و سامان کے باوجود اس بڑھئی کے بیٹے کی مدد کے وہ آج بھی