خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 103

* 1942 103 خطبات محمود مسلمانوں سے ہمیں تیس گنا زیادہ تھی۔رومیوں سے مقابلہ تھا جن کی فوج بہت تربیت یافتہ اور ٹرینڈ تھی۔جس طرح آجکل انگریزوں اور جرمنوں وغیرہ کی فوجیں ہیں۔آخر حضرت عبد اللہ بن رواحہ کا ہاتھ کٹ گیا۔اس پر انہوں نے دوسرے ہاتھ میں جھنڈالے لیا۔وہ بھی کٹ گیا تو ٹانگوں میں دبا کر کھڑے ہو گئے۔آخر ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو گر دن کا سہارا دے کر جھنڈے کو کھڑا کر لیا اور مرتے مرتے یہ آواز دی کہ مسلمانو! اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہونے پائے۔ایک مسلمان آگے بڑھا اور اس نے جھنڈ از مین میں گاڑ دیا۔یہ جنون ہی کی حالت ہے، ور نہ کس طرح ایک ہٹے کٹے آدمی کو جب معمولی سا بھی زخم آجائے تو مرہم پٹی کرانے کے لئے بھاگتا ہے مگر حضرت عبد اللہ کے دونوں بازو اور ٹانگ بھی کٹ گئی لیکن کوئی پرواہ نہیں کی۔ان کو صرف ایک خیال تھا کہ اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ایسے لوگ جب بھی میدان میں آتے ہیں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ اگر زندہ رہتے ہیں تو فاتح کی حیثیت سے اور اگر مرتے ہیں تو ہمیشہ زندہ رہنے والوں کی حیثیت سے۔ایسے لوگوں کا نام دنیا سے کبھی نہیں مٹایا جا سکتا۔یہ لوگ ہر لمحہ زندگی کو موت سے بدلنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور موت ہمیشہ ان کو زندگی بخشتی ہے۔پس ایمان ہی ہے جو دنیا میں ہمیشہ مومنوں کو بچایا کرتا ہے اور انبیاء کی جماعتوں کو زندہ رکھا کرتا ہے اور یہ نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ کسی اور کے کہ ہر ایک کے ایمان کو زندہ اور تازہ کرے۔یہ ایمان اسی صورت میں پیدا ہوتا ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو اور جب ایمان کا یہ ولولہ پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ایسے مومن کو دبا نہیں سکتی اور کوئی قوت اسے مٹا نہیں سکتی۔بھلا موت سے انسان کیوں ڈرے جو کبھی بھی کسی کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ہزاروں انسان دنیا میں بڑے بڑے بن کر مرتے ہیں مگر ایک کتے کی طرح ان کا نام مٹ جاتا ہے اور ہزاروں غریب جانیں دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کا نام یاد رکھا جاتا ہے۔چاہے فرد کے لحاظ سے اور چاہے قوم کے لحاظ سے ہو۔میں نے یونان کے بعض سپاہیوں کی مثال دی ہے جو سپارٹا کے بہادر کہلاتے ہیں۔یونان میں کتنے بادشاہ ہوئے ہیں مگر سوائے سکندر کے یا اس کے طفیل اس کے باپ کے نام کے سوا کسی ایک کا بھی نام تم میں سے کسی کو معلوم ہے؟ مجھے تو معلوم نہیں حالانکہ