خطبات محمود (جلد 23) — Page 99
خطبات محمود 99 * 1942 آپ نے جب مشورہ پوچھا تو مہاجرین میں سے ایک کے بعد دوسرا کھڑا ہوتا ہو گیا اور کہتا گیا کہ یارسول اللہ (صلی ا ن ) اگر جنگ مقدر ہے تو ہم تیار ہیں لیکن انصار خاموش تھے اور اس کی وجہ یہ تھی۔مکہ والے مہاجرین کے رشتہ دار تھے اور اس لئے انصار نے خیال کیا کہ اگر ہم نے جنگ کا مشورہ دیا تو مہاجرین سمجھیں گے کہ چونکہ مکہ والے ہمارے رشتہ دار ہیں اس لئے یہ لوگ ان سے لڑنے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ان کا مرنا ان لوگوں پر گراں نہیں گزرتا۔اس لئے وہ اپنے مہاجر بھائیوں کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے خاموش رہے۔مہاجرین یکے بعد دیگرے اٹھتے اور مشورہ دیتے اور اپنے جوش اور اخلاص کا اظہار کرتے مگر ان میں سے جب کوئی بات ختم کر لیتا تو رسول کریم صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ لو گو مشورہ دو پھر دوسر امہاجر اٹھتا اور اسی طرح جوش اور اخلاص کے ساتھ لڑنے کا مشورہ دیتا مگر آپ پھر فرماتے کہ لوگو مشورہ دو۔اس پر انصار نے سمجھا کہ شاید آپ ہمیں مخاطب فرما رہے ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ مشورہ تو مل رہا ہے مگر آپ پھر بھی یہی فرماتے ہیں کہ لو گو مشورہ دو اور شاید آپ کی مراد انصار سے ہے ( انصار جب رسول کریم صلی الی ایم کو مدینہ میں لائے۔تو یہ اقرار کیا تھا کہ اگر کوئی دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو ہم اپنی جانوں سے آپ کی حفاظت کریں گے۔لیکن مدینہ سے باہر کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں) اس انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب چونکہ ہم لوگ مدینہ سے باہر ہیں اس لئے شاید آپ کو خیال ہے کہ اس اقرار کے مطابق ہم آپ کا ساتھ نہ دیں گے۔لیکن یا رسول اللہ ! جس وقت ہم نے یہ اقرار کیا تھا اس وقت ہمیں اسلام کی پوری خبر نہ تھی اور آپ کی ذات کی بھی ہمیں کما حقہ قدر نہ تھی مگر اب کہ اسلام ہم پر کھل چکا اور آپ کی قدر کو ہم نے پہچان لیا۔اب اس اقرار کا کوئی سوال نہیں۔یارسول اللہ ! سامنے سمند ر ہے۔آپ حکم دیں تو ہم اس میں گھوڑے ڈال دیں گے اور اگر مقابلہ ہوا تو ہم آپ کے دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے، آگے لڑیں گے اور پیچھے لڑیں گے اور کوئی دشمن صا الله سة آپ کی ذات تک ہر گز نہ پہنچ سکے گا۔جب تک کہ وہ ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے۔1 ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں بارہ جنگوں میں رسول کریم صلی ال نیم کے ساتھ شامل ہوا ہوں مگر باوجود اس کے مجھے ہمیشہ یہ حسرت رہی ہے کہ گو میں اس سعادت سے محروم رہتا مگر