خطبات محمود (جلد 23) — Page 98
خطبات محمود 98 $1942 اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اول ایسے کمزور نہ تھے۔ابھی بیماری نہ آئی تھی۔آپ بڑے مضبوط جسم کے آدمی تھے۔بعض اوقات آپ اپنا ہاتھ لمبا کر دیتے اور فرماتے کہ کوئی جوان اسے ٹیڑھا کر کے دکھائے۔تو آپ اچھے مضبوط آدمی تھے اور مضبوط ہونے کا آپ کو دعویٰ تھا مگر وہ استانی دبلی پتلی منحنی اور چھوٹے قد کی عورت تھی مگر آپ اسے روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ نے بلند آواز سے عورتوں کو کہا کہ آکر میری مدد کرو۔یہ میرے ہاتھ سے چھوٹی جاتی ہے اور آپ کے ساتھ آٹھ دس عورتوں نے مل کر بمشکل اسے پکڑا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ پکڑنے والے سب عقلمند تھے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی پوری طاقت کا استعمال نہ کر تا تھا مگر وہ عورت پاگل تھی اور پاگل کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ میر اہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے گا، پسلیاں ٹوٹ جائیں گی یا کمر ٹوٹ جائے گی اسے صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے اور پورا زور لگا کر اسے کرنا چاہتا ہے۔انبیاء کی جماعتوں کو لوگ اسی وجہ سے پاگل کہا کرتے ہیں کہ انہیں سارا زور لگا دینے کی عادت ہوتی ہے اور جب کوئی انسان پورا زور لگا دے تو بڑھا نوجوانوں پر بھاری ہوتا ہے اور جو ان دسیوں جوانوں پر بھاری ہوتا ہے۔رسول کریم صلی للی ملک بدر کی جنگ کے لئے مدینہ سے نکلے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی اطلاع دی گئی تھی کہ دونوں قافلوں میں سے کوئی نہ کوئی مل جائے گا اور اس سے مقابلہ ہو گا۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی حکم تھا کہ شروع میں آپ اس امر کو ظاہر نہ کریں۔آپ نے چونکہ جنگ کے پہلو پر زور نہ دیا تھا۔اس لئے صحابہ بھی سارے آپ کے ساتھ نہ گئے بلکہ کم گئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تجارتی قافلہ سے مقابلہ ہے۔مدینہ میں اور سپاہی تھے مگر وہ ساتھ نہ گئے تھے۔جب آپ چند منزل آگئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر پوری حقیقت کھول دی گئی اور ساتھ اجازت بھی دی گئی کہ بیان فرمائیں کہ اصل غرض کیا ہے۔آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور بتایا کہ قافلہ نکل چکا ہے مگر کفار کا لشکر آرہا ہے۔اب مشورہ دو کہ کیا کیا جائے۔آپ کے ساتھ کل 313 صحابہ تھے۔اور ان میں سے بھی ایک حصہ ناتجربہ کاروں کا تھا۔کچھ انصار تھے جو جنگی فنون سے ایسے واقف نہ تھے اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ آپ ان لوگوں کے لئے موت خریدنا چاہتے تھے۔