خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 88

* 1942 88 خطبات محمود دنگ ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس سارے سامان ہیں اور جس چیز کی کمی ہو وہ اس کے پاس موجود ہوتی ہے۔عقل کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، جرآت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے ، سخاوت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، صحت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، عزت کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے، مال کی کمی ہو تو وہ اس کے پاس موجود ہے۔غرض ہر چیز کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں اور وہ اپنے بندوں کو ان خزانوں میں سے ایسے رنگ میں حصہ دیتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے (میں اس وقت بچہ تھا) کہ آتھم کے مباحنے میں میں نے جو نظارہ دیکھا اس سے پہلے تو ہماری عقلیں دنگ رہ گئیں اور پھر ہمارے ایمان آسمان پر پہنچ گئے۔فرماتے تھے جب عیسائی مباحثہ سے تنگ آگئے اور انہوں نے دیکھا کہ ہمارا کوئی داؤ نہیں چلا تو چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر انہوں نے ہنسی اڑانے کے لئے یہ شرارت کی کہ کچھ اندھے، کچھ بہرے، کچھ لولے اور کچھ لنگڑے بلالئے اور انہیں مباحثہ سے پہلے ایک طرف چھپا کر بٹھا دیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو جھٹ انہوں نے ان اندھوں، بہروں اور لولوں لنگڑوں کو نکال کر آپ کے سامنے پیش کر دیا اور کہا زبانی باتوں سے جھگڑے طے نہیں ہوتے۔آپ کہتے ہیں میں مسیح ناصری کا مثیل ہوں اور مسیح ناصری اندھوں کو آنکھیں دیا کرتے تھے، بہروں کو کان بخشا کرتے تھے اور کولوں لنگڑوں کے ہاتھ پاؤں درست کر دیا کرتے تھے۔ہم نے آپ کو تکلیف سے بچانے کے لئے اس وقت چند اندھے بہرے اور لولے لنگڑے اکٹھے کر دیئے ہیں۔اگر آپ فی الواقع مثیل مسیح ہیں تو ان کو اچھا کر دیجئے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ہم لوگوں کے دل ان کی اس بات کو سن کر بیٹھ گئے اور گو ہم سمجھتے تھے کہ یہ بات یو نہی ہے مگر اس خیال سے گھبر ا گئے کہ آج لوگوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کا موقع مل جائے گا۔مگر جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ کو دیکھا تو آپ کے چہرہ پر ناپسندیدگی یا گھبراہٹ کے کوئی آثار نہ تھے۔جب وہ بات ختم کر چکے تو آپ نے فرمایا دیکھئے پادری صاحب میں جس مسیح کے مثیل ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، اسلامی تعلیم کے مطابق وہ اس قسم کے اندھوں، بہروں اور کولوں لنگڑوں کو اچھا نہیں کیا کرتا تھا۔مگر آپ کا عقیدہ