خطبات محمود (جلد 23) — Page 580
خطبات محمود 580 * 1942 ایسے ہیں۔ہر قوم میں شریف النفس لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اور انہیں شریف النفس لوگوں میں سے کچھ آہستہ آہستہ ہماری جماعت میں شامل ہوتے رہتے ہیں مگر بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتا ہو احمدیوں کو ہی برا سمجھتا ہے جہاں بھی کسی احمدی اور غیر احمدی کے درمیان جھگڑا ہو فوراًہندو، سکھ اور عیسائی غیر احمدی سے مل جائیں گے اور بغیر کسی دلیل اور ثبوت کے اس کی تائید کرناشروع کر دیں گے حالانکہ ان کو اس لڑائی میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہو تا محض احمدیت کے بغض کی وجہ سے وہ دوسرے کی تائید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کثرت سے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ یہی بتاتے ہیں کہ ہر مذہب وملت کے آدمیوں کے دلوں میں آپ کی جماعت کا بغض بھر ا ہو ا ہے اور وہ لوگوں سے یہی کہتے ہیں کہ احمدی بہت برے ہوتے ہیں۔ابھی پچھلے دنوں سکھ قوم کے ایک لیڈر یہاں آئے اور مجھ سے بھی ملے۔ملتے ہی پہلی بات انہوں نے یہی کہی کہ میری آپ سے ملنے کی بڑی غرض یہ تھی کہ میں آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاؤں کہ آپ باہر سے لوگوں کو کثرت کے ساتھ یہاں بلایا کریں تا کہ ان کو پتہ لگے کہ اصل حالات کیا ہیں ورنہ باہر آپ لوگوں کے متعلق بہت کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔میں نے کہا سر دار صاحب یہ تو صحیح ہے کہ یہاں آکر لوگوں کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں مگر اس کا کیا علاج ہے کہ ہم تو لوگوں کو بلاتے ہیں مگر وہ نہیں آتے۔اسی طرح گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک بڑے افسر چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے تعلق کی وجہ سے ایک دفعہ قادیان آئے۔واپس جانے کے بعد وہ ایک دن مذاقاً چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو چاہئے مجھے تنخواہ دیا کریں۔چودھری صاحب نے پوچھا کس وجہ سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں بھی آپ کی تبلیغ کیا کرتا ہوں اس کے بعد انہوں نے سنجیدگی سے کہا کہ مذاق بر طرف۔اصل بات یہ ہے کہ جب سے میں قادیان سے واپس آیا ہوں میرے پاس مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی ہر مذہب وملت کے لوگ کثرت سے آئے ہیں اور ہر ایک نے مجھے یہی کہا ہے کہ آپ قادیان کیوں گئے۔احمدی تو بہت برے ہوتے ہیں۔یہ صاحب جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ایک بنگالی ہندو ہیں اور گور نمنٹ آف انڈیا کے ایک بہت بڑے عہدہ پر متمکن ہیں مگر انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں -