خطبات محمود (جلد 23) — Page 537
* 1942 537 خطبات محمود کہ ان میں سے بعض بے ٹکٹ گاڑی پر سوار ہو کر اور اس طرح گورنمنٹ کے روپیہ کو چرا کر بٹالے جاتے اور وہاں سینما دیکھتے ہیں اور پھر بے ٹکٹ واپس آتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے ایسے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ بہت سے ایسے ہیں۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ معتد بہ ایسے ہیں۔ہاں میں یہ ضرور کہتا ہوں اور تحقیق سے کہتا ہوں کہ کچھ لڑکے ایسے ہیں جو اس قسم کی حرکت کرتے ہیں۔گویا وہ تین حرام خوریاں کرتے ہیں۔وہ گورنمنٹ کی چوری کر کے بٹالے جاتے ہیں ، وہ سلسلہ کی چوری کر کے سینما دیکھتے ہیں اور پھر گورنمنٹ کی چوری کر کے واپس آتے ہیں۔شاید تم سمجھتے ہو کہ گورنمنٹ کی دو چوریوں میں سلسلہ کی ایک چوری حلال ہو جاتی ہے مگر یہ بالکل غلط ہے۔دو چوریوں میں ایک اور چوری حلال نہیں ہو جاتی بلکہ وہ اور بھی گندی ہو جاتی ہے جیسے اور چوریاں بری ہیں ویسی ہی گورنمنٹ کی چوری بھی بری ہے۔پس تم میں سے بعض نوجوانوں کا یہ خیال کہ گورنمنٹ کی چوری چوری نہیں ہو سکتی بالکل غلط ہے۔چوری چوری ہی ہے خواہ وہ رسول کی ہو ، نبی کی ہو ، گورنمنٹ کی ہو ، دوست کی ہو ، دشمن کی ہو۔اسی طرح ایک کنچنی کی چوری بھی چوری ہے اور ایک ڈوم کی چوری بھی چوری ہے۔اگر تم کسی ڈاکو کا مال اٹھا لیتے ہو تو یہ بھی ویسی ہی چوری ہے جیسے کسی اور کی چوری۔لوگوں کے دلوں میں یہ غلط خیال بیٹھا ہوا ہے کہ گورنمنٹ کی چوری چوری نہیں ہوتی حالا نکہ وہ بھی ویسی ہی چوری ہوتی ہے جیسے کوئی اور چوری۔جب تم چھپ کر ریل کے خانے میں جا کر بیٹھ جاتے ہو اور دل میں سمجھتے ہو کہ یہ ناجائز صورت کہاں ہے۔گارڈ ہمارا واقف ہے وہ ہم پر کوئی گرفت نہیں کرے گا تو اس وقت بھی تم گناہ کے مرتکب ہوتے ہو۔کیونکہ وہ گور نمنٹ کا مال ہے۔گارڈ کے باپ کا مال نہیں۔اگر گارڈ تم کو مفت لے جانا چاہتا ہے تو تم اسے کہو کہ چل کر ایجنٹ کے سامنے کہہ دو کہ میں اسے بلا ٹکٹ لے جانا چاہتا ہوں۔پھر اگر اس کی نوکری رہ جائے تو بے شک تم مفت چلے جاؤ اور اگر وہ ملازمت سے بر طرف کر دیا جائے تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ گارڈ کی واقفیت کی بناء پر بلا ٹکٹ سفر کرنا بھی ویسا ہی جرم ہے جیسے کسی اور صورت میں بلا ٹکٹ سفر کرنا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کے مکان پر پہرہ لگا ہوا ہو تو وہ کہے کہ میں پہرہ دار کی اجازت سے مالک مکان کی کرسی اٹھالایا تھا یا میز اٹھالا یا تھا۔اس کی اجازت سے وہ چوری جائز تو نہیں ہو