خطبات محمود (جلد 23) — Page 536
* 1942 536 خطبات محمود تو وہ انہیں کہے کہ غریبوں کی مدد کیا کرو۔بے شک غریبوں کی مدد کرنا اچھا کام ہے مگر اس کے لئے غلط طریق اختیار کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔اسی طرح بے شک ریڈیو کے ذریعہ بعض اچھی چیزیں بھی نشر کی جاتی ہیں مگر ناچ اور گانا ایسی گندی چیزیں ہیں جس نے ہر گھر کو ڈوم اور میراثی بنادیا ہے اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور باقی دنیا کو اس ضر ر سے بچائے اور اس کا صرف مفید پہلو قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لا يَضُكُم منْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم جب تم ہدایت پر ہو تو تمہیں دوسرے کی گمراہی کی پر واہ بھی نہیں کرنی چاہئے۔اگر تم صحیح راستے پر چل رہے ہو اور دوسرا شخص تمہارے ساتھ یہ شرط کرنا چاہتا ہے کہ تم صحیح راستے کو چھوڑ کر غلط راستے کو اختیار کر لو تو فرماتا ہے ایسے شخص کو تم بے شک گمراہ ہونے دو مگر صحیح راستے کو ترک نہ کرو۔تو ان چیزوں کو دنیا سے تم نے مٹانا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں جب حکومت اور طاقت عطا فرمائے تو جس قدر ڈوم اور میراثی ہیں ان سب کو رخصت کر دو اور کہو کہ جاکر حلال کمائی کماؤ۔ہاں جغرافیہ یا تاریخ یا مذ ہب یا اخلاق کا جو حصہ ہے اس کو بے شک رہنے دو اور اعلان کر دو جس کی مرضی ہے ریڈیو سنے اور جس کی مرضی ہے نہ سنے۔اس وقت ریڈیو والوں نے ایک ہی وقت میں دو نہریں جاری کی ہوئی ہیں۔ایک نہر میٹھے پانی کی ہے اور دوسری نہر کڑوے پانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی دو نہروں کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے ایک نہر میں تو میٹھا پانی ہے مگر دوسری نہر میں کڑوا پانی ہے۔7 میں جب بھی ریڈیو سنتا ہوں تو مجھ پر یہی اثر ہوتا ہے کہ یہی دو نہریں ہیں جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔اس سے ایک طرف میٹھا پانی جاری ہوتا ہے اور دوسری طرف کڑوا پانی جاری ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کڑوی نالی کے ہوتے ہوئے میٹھا پانی غالب آجائے۔میٹھا پانی اسی صورت میں غالب آ سکتا ہے جب کڑوے پانی کی نالی کو بالکل بند کر دیا جائے۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ ان میں سے بعض سے صرف اس مطالبہ کو پورا کرنے میں کو تاہی ہوئی ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ وہ اپنی اصلاح کریں گے اور اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اس وقت میرے سامنے بورڈنگ تحریک جدید کے لڑکے بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے معلوم ہے