خطبات محمود (جلد 23) — Page 534
* 1942 534 خطبات محمود چھلانگ لگائی اور دوڑ کر باہر نکل گیا۔سینما والے بھی حیران ہو گئے کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔آخر اس کا یہ اثر ہوا کہ اس کے دوستوں نے اقرار کیا کہ ہم آئندہ سینما نہیں دیکھیں گے۔تو ہماری جماعت میں ایسے ایسے نمونے بھی پائے جاتے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوجوانوں نے کمزوری دکھائی ہے۔میں آج ان کو پھر توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہوں کہ تم سے تو ہماری آئندہ بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔جب تمہارے باپ دادا اور دوسرے رشتہ دار مر جائیں گے اس وقت تم نے ہی اس امانت کو سنبھالنا ہے۔اگر تم پہلوں سے زیادہ مضبوط نہیں ہو تو ہمارے لئے کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔ہماری خوشی تو اس بات میں ہے کہ ہم اگر ایک قدم چلیں تو تم دو قدم چلو، ہم تین قدم چلیں تو تم چار قدم چلو۔جب تک تم ہم سے زیادہ قربانی کرنے والے، ہم سے زیادہ جرات رکھنے والے اور ہم سے زیادہ دلیری دکھانے والے نہیں بنتے اس وقت تک سلسلہ کی امانت محفوظ ہاتھوں میں نہیں رہ سکتی۔پس میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم بہادر بنو اور اپنے نفسوں کے غلام مت بنو۔تمہارے قبضہ میں آئندہ دنیا کی حکومتیں آنے والی ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ آئندہ زمانہ میں جب خدا تعالیٰ تمہیں حکومت اور سلطنت عطا فرمائے تو جس طرح محمود غزنوی نے مندر توڑ ڈالے تھے اسی طرح تم ریڈیو کے وہ ٹرانسمٹر توڑ ڈالو۔جہاں سے گانے بجانے نشر کئے جاتے ہیں۔یہ ریڈیو کے سیٹ خبریں سننے اور علمی تقاریر اور دوسرے مفید معلومات کے لئے بے شک اچھی چیز ہیں مگر آجکل ریڈیو نے ناچ اور گانے کو اتنا قریب کر دیا ہے کہ ہر خاندان کو اس نے ڈوم اور میراثی بنادیا ہے۔میں نے دیکھا ہے میں بعض دفعہ سنتیں پڑھنے لگتا ہوں اور اس خیال سے کہ اب خبریں آنے والی ہیں ریڈیو میں گرمی پیدا کرنے کے لئے اسے چلا دیتا ہوں کیونکہ ریڈیو کچھ گرمی کے بعد کام شروع کرتا ہے۔مگر کھولتے وقت کو کوئی تقریر ہو رہی ہوتی ہے مگر نماز پڑھ کر اسے اونچا کرو تو کوئی گاناشروع ہوتا ہے اور قریباً جب بھی اسے کھولو زور سے باجے اور گانے کی آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ اگر گلی میں سے گزرتے ہوئے کوئی شخص سُن لے تو وہ یہی خیال کرے گا کہ ہمیں تو گانا سننے سے روکا جاتا ہے مگر خود ریڈیو پر گانا سن لیا جاتا ہے۔اسی طرح کئی دفعہ پاخانے کی حاجت ہوتی ہے، خبریں ہو رہی ہوتی ہیں اور میں اسی طرح ریڈیو کو