خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 532

*1942 532 خطبات محمود دوسری تحریکوں میں حصہ لینا شروع کر دیا گویا جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ لیا تھا انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ قربانیاں کرنی شروع کر دیں اور جنہوں نے حصہ نہیں لیا تھا انہوں نے اس ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے سکے دوسری تحریکوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔اور اس طرح ساری جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا۔علاوہ ممبر ان صدر انجمن احمدیہ کے جن کو طبعاً فکر ہونی چاہئے تھی بعض نادان لوگوں نے تو یہانتک کہہ دیا تھا کہ اب جماعت میں تحریک جدید جاری کر دی گئی ہے نہ معلوم کیا ہو گا۔جماعت کی کمر ہمت ٹوٹ جائے گی، اس کی مالی حالت خراب ہو جائے گی، اس میں قربانی اور ایثار کی روح کم ہو جائے گی، وہ اس تحریک میں حصہ لے گی تو اور تحریکوں میں حصہ نہیں لے سکے گی مگر خدا تعالیٰ نے اس تحریک کے بعد جماعت کو ہر نئی تحریک میں پورے جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر بتا دیا کہ ہماری کمریں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہیں۔ہمارے ہاتھ پہلے سے زیادہ لمبے ہو گئے ہیں، ہمارا ایثار پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے ، ہمارا خدا ہم سے پہلے سے زیادہ قریب آگیا ہے اور ہم پہلے سے بھی اونچے نظر آتے ہیں۔گویاوہی بات ہماری جماعت پر صادق آرہی ہے کہ ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات ”خدا تعالیٰ کے فضل سے چکنے چکنے پات نکل رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو بہت بڑا درخت بنانے کا ارادہ رکھتا ہے ورنہ یہ چکنائی، یہ سر سبزی اور یہ شادابی کس طرح پیدا ہوتی۔غرض جس چیز کو لوگوں نے تباہی سمجھا تھا وہی ہماری ترقی کا ذریعہ بن گئی۔لوگ مجھے کہتے تھے کہ تم نے جماعت پر ایسا بوجھ ڈالا ہے کہ اس کی کمر توڑ ڈالی ہے مگر جماعت نے اپنی قربانیوں سے بتادیا کہ اس کی کمر ٹوٹی نہیں بلکہ پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔چنانچہ انجمن کے قرضوں کا بہت حد تک اتر جانا، نئی تحریکات کا جماعت میں قبولیت حاصل کرنا اور لوگوں کا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور اس تحریک میں حصہ لینے والوں کا اپنے چندوں کو ہر سال پہلے سال سے بڑھاتے چلے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری جماعت اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں میں پہلے سے کئی گناتر قی کر گئی ہے۔اب اگر ہمیں اپنے اندر کچھ کمزوریاں نظر آتی ہیں تو وہ ایمان کی ترقی کی وجہ سے نظر آتی ہیں اور ان کمزوریوں کا دکھائی دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ایمان