خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 521

* 1942 521 خطبات محمود کتاب ہے۔اسے آپ پڑھیں اور اس پر عمل کریں لیکن اگر لوگوں کو اخلاق کی طرف توجہ نہیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم جب دروازوں پر دستک دیں گے اور لوگ باہر آئیں گے تو وہ کہیں گے نہیں اس کتاب کی ضرورت نہیں اور ہم ناکام واپس آجائیں گے۔ایسی صورت میں ہماری کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور اگر ہم ہر شخص کو بتانے لگیں کہ اخلاق کی کیا ضرورت ہے تو یہ اتنا لمبا کام ہو گا جس کا ختم کرنا آسان نہیں ہو گا لیکن فرض کرو۔لوگوں کے قلوب کی یہ حالت ہے کہ وہ اخلاق کی طرف متوجہ ہیں اور اخلاق کی اہمیت اور اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں تو ایسی حالت میں خواہ کوئی ہندو اخلاق کی کتاب لے جائے، خواہ کوئی سکھ اخلاق کی کتاب لے جائے، وہ کوئی نہ کوئی صفحہ نکال کر پڑھ لیں گے اور اس طرح لوگوں تک اپنے خیالات کے پہنچانے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔اس وقت دنیا کی یہی حالت ہے۔وہ یورپ جو اخلاق کی طرف توجہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اس کے کانوں تک اپنے خیالات کا پہنچانا ہمارے لئے سخت مشکل تھا مگر وہ یورپ جو اخلاق کی طرف توجہ کرنے کے لئے تیار ہے۔اس یورپ تک ہم اپنے خیالات کو آسانی کے ساتھ پہنچا سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ یورپ پہلے یورپ سے مختلف ہو گا۔پہلا یورپ ہماری باتوں کو سنتا اور پھر ہماری پیٹھ پر تھپکی دے کر کہتا تھا کہ تمہاری باتیں بہت اچھی ہیں مگر جب ہم واپس آ جاتے تھے تو وہ کہتا تھا یہ بے وقوف لوگ ہیں جو اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔مگر یہ یورپ ہماری پیٹھ پر تھپکی نہیں دے گا بلکہ وہ ہماری باتوں کو سنے گا، سنجیدگی سے سنے گا اور پھر ہمارے منہ پر تھپڑ مار کر کہے گا کہ میں عیسائی ہوں۔کیا تم مجھے عیسائیت کے عقائد سے منحرف کرنے کے لئے آئے ہو۔میں تمہارے فریب میں نہیں آ سکتا۔جب تک اس قسم کا تھپڑ مارنے والا یورپ پیدا نہ ہو جائے۔اس وقت تک نہ انہیں مذہب کی طرف توجہ پید اہو سکتی ہے اور نہ ہم اپنی مذہبی باتیں ان سے منوا سکتے ہیں۔ہمیں وہ تھپکیاں منظور نہیں جو لا مذہب یورپ ہمیں دیتا تھا۔ہمیں وہ تھپڑ منظور ہیں جو ایسے انسان کی طرف سے ہوں گے جو مذہب کی اہمیت کو سمجھنے لگا ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی خواہش اس کے دل میں پید اہو گئی ہے۔پھر ان میں سے بھی لاکھوں ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ ہم خدا کو تو مانتے ہیں مگر ہم نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہم کون سے مذہب کو اختیار کریں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی