خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 520

خطبات محمود 520 * 1942 ساری عزت اس بات میں تھی کہ جو کچھ رسول کریم صلی لی ایم کے متعلق انہیں معلوم ہوا ہے۔اسے صحیح صحیح لوگوں تک پہنچا دیں۔پس یہ کہنا کہ کنز میں چونکہ فلاں بات لکھی ہے اس لئے محمد صلی الی یکم کا عمل نَعُوذُ بِاللہ باطل ہو گیا، بالکل لغو بات ہے اور ویسی ہی لغو بات ان لاٹ پادریوں کی ہے کہ گوانجیل میں یہ لکھا ہے کہ عورت کو گرجا میں ننگے سر نہیں آنا چاہئے مگر ہم جولاٹ پادری ہیں حکم دیتے ہیں کہ عورتیں ننگے سر بھی گرجا میں آسکتی ہیں۔ایسے لوگوں سے کیا تعجب ہے کہ کل کو وہ یہ کہہ دیں کہ گو خدا نے فلاں حکم دیا ہے مگر ہم جولاٹ پادری ہیں حکم دیتے ہیں کہ اس کی خلاف ورزی میں کوئی حرج نہیں۔بہر حال اس سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ ان میں مذہب کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔عورتوں نے کہا ہو گا کہ ہمیں مذہب سے دلچسپی ہے اور ہم گر جا میں جانا چاہتی ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم سر ڈھانک کر جائیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔تم گر جا میں آجایا کرو، سر بے شک نہ ڈھانکو مگر یہ سلسلہ نہایت خطرناک ہے۔ممکن ہے کل وہ کہہ دیں کہ ہم گر جا میں تو آنا چاہتی ہیں مگر اپنی چھاتی نگی رکھیں گی یا بعض کہہ دیں کہ ہم گھٹنوں تک اپنے جسم کو ننگا رکھنا چاہتی ہیں یا بعض کہہ دیں کہ ہم ایسا لباس پہن کر آنا چاہتی ہیں جس سے ہمارا تمام جسم لوگوں کو نظر آئے۔اس پر وہ لاٹ پادری پھر یہی کہہ دیں گے کہ بہت اچھا یہی سہی۔انجیل میں بے شک اس کے خلاف لکھا ہے مگر ہم جو لاٹ پادری ہیں فیصلہ کرتے ہیں کہ عورتیں اپنی چھاتی کو ننگا رکھ کر یا گھٹنوں تک ٹانگوں کو ننگا رکھ کر یا ایسا لباس پہن کر جس سے تمام جسم نظر آئے گر جا میں آسکتی ہیں۔پس یہ بات ہے تو بالکل لغو اور ہنسی کے قابل مگر بہر حال اس سے اتنا پتہ ضرور چلتا ہے کہ عیسائی عورتوں کے دلوں میں گر جا جانے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے سامان پیدا کرنے شروع کر دیئے ہیں اور جب لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ انہیں مذہب اور اخلاق کی طرف توجہ کرنی چاہئے تو اس وقت ان کے کانوں تک مذہبی باتیں پہنچانا بہت آسان ہوتا ہے۔فرض کرو ہمارے پاس کوئی اخلاق کی کتاب ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اسے پڑھیں اور اس کی باتوں پر عمل کریں تو ہم ہر دروازہ پر جائیں گے ، اسے کھٹکھٹائیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ یہ اخلاق کے متعلق ایک مفید