خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 499

* 1942 499 خطبات محمود ایک یخ بستہ دریا تھا۔اسلامی فوج کے کمانڈر نے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ اس میں چھلانگ لگا دو اس نے فوراً تعمیل کی اور گرنے کے ساتھ ہی اس پر فالج گرا اور پھر اسے گھسیٹ کر باہر نکالنا پڑا۔اس واقعہ کا جب حضرت عمر کو علم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ کوئی کمانڈر کسی سپاہی کو ایسا حکم نہ دے جو انسانی طاقت سے بالا ہو۔تو آنحضرت صلی لی لی تو الگ رہے، آپ کے خلیفہ اور اس کے بھی ماتحت ایک فوجی افسر کے حکم پر ایک سپاہی نے برف میں چھلانگ لگا دی اور پوچھا تک نہیں کہ اس کا کیا فائدہ حالانکہ وہ افسر کمانڈر انچیف نہ تھا بلکہ معمولی سا افسر تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور مامورین کے ساتھ ایسی عقیدت اللہ تعالیٰ دلوں میں پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ کسی بھی قربانی سے نہیں ڈرتے اور اس لئے لوگ ان کو ساحر کہتے ہیں مگر یہ سحر سچائی کا سحر ہوتا ہے اور اس سحر کے مقابلہ میں لوگوں کے خود ساختہ سحر کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہوتی۔پس اس سچائی کے سحر کو چلانے کی ضرورت ہے مگر یہ ایسا جادو ہے جو پڑھنے سے چلتا ہے، بند رکھنے سے نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو قرآن اور اس کی تفسیر دنیا کو دی وہ اگر تمہارے گھروں میں بند رہے گی تو دنیا کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔دنیا اس کو اسی وقت سمجھ سکے گی جب وہ لوگوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔پس یہ کام ہے جو ہمیں کرنا ہے اور اسی کے لئے میں نے یہ تحریک کی ہے۔اب تک اس میں دس گیارہ سو روپیہ کے وعدے آچکے ہیں۔ڈاک میں جو وعدے مجھے بعد میں ملے ہیں ان سے یہ رقم دو ہزار سے بڑھ گئی ہے کہ یہ اتنی رقم ہے کہ اس سے دونوں اخباروں کے قریباً دو دو سو پرچے جاری کئے جاسکتے ہیں ابھی بعض تار اور خطوط وغیرہ میں نے دیکھے نہیں۔ممکن ہے کچھ وعدے اور بھی آئے ہوں اور اب کہ میں نے اس تحریک کی پوری طرح وضاحت کر دی ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ سب دوست اس میں حصہ لیں گے۔اب تک جو وعدے آئے ہیں وہ صرف ستراستی دوستوں کی طرف سے ہی ہیں اور اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر جماعت اس میں پوری طرح حصہ لے تو یقیناً یہ تحریک بہت کامیاب اور مفید ہو سکتی ہے۔(الفضل 5 نومبر 1942ء) م بعد میں غور کر کے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کچھ حصہ اس رقم کا اردو کا ریویو جاری کرنے پر بھی خرچ کیا جائے۔