خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 491

* 1942 491 خطبات محمود تحریک کو عام کرنے کے معنے یہ نہیں ہیں کہ جو زیادہ دینے کی توفیق رکھتے ہیں وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو ثواب سے محروم کر لیں۔انہیں چاہئے کہ ثواب کے اس کام میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیں تا اللہ تعالی کی باتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کے دلوں کو اسلام اور احمدیت کے لئے ان کے ذریعہ کھول دے اور وہ جماعت میں شامل ہوں اور پھر وہ اس تحریک میں حصہ لیں اور پھر ان کے ذریعہ اور لوگ ہدایت پائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں راسخ کر دے۔میرے آج کے خطبہ کی غرض یہ واضح کرنا ہے کہ اس تحریک میں حصہ لینے سے غرباء کو محروم کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔اگر کوئی ایک پیسہ یا ایک دھیلہ دے کر بھی اس میں حصہ لے سکتا ہے تو لے بلکہ آجکل تو کوڑیوں کا رواج نہیں، پہلے زمانہ میں یہ استعمال ہوتی تھیں۔اگر آج بھی یہ استعمال ہو تیں تو میں کہتا کہ اگر کوئی چند کوڑیاں دے کر بھی اس میں حصہ لینا چاہے تو اسے ثواب سے محروم نہ رکھا جائے۔رسول کریم صلی ایم کے زمانہ میں ایسے لوگ بھی تھے جو جنگوں وغیرہ کی تیاری کے لئے ہزاروں روپیہ چندہ دیتے تھے اور وہ بھی تھے جو مٹھی بھر گیہوں یا جو دے کر ہی حصہ لیتے تھے بلکہ ایک شخص کے پاس کھانے کے لئے کچھ کھجوریں تھیں وہ وہی دے گیا۔اللہ تعالی مال کی کثرت یا قلت کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں کو دیکھنے والا ہے اور وہ دلوں کی صفائی کو چاہتا ہے۔اس لئے ایسے کاموں سے کسی کو محروم نہیں رکھنا چاہئے، جن سے دلوں کی صفائی ہوتی ہے۔تبلیغ بھی ایسے ہی کاموں میں سے ہے جن سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔تبلیغ میں لینے والا اپنے نفس پر بھی بوجھ ڈالتا ہے اور اس طرح اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔اصلاح نفس کے ذرائع میں سے تبلیغ ایک بہت بڑا اور اہم ذریعہ ہے اور ہر شخص کو یہ موقع نہیں ہو تا کہ وہ دنیا میں جا کر تبلیغ کرے اور اس لئے اگر وہ اس تحریک میں کچھ رقم دیتا ہے جس کا مقصد تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہو تا ہے تو وہ یقینا ثواب میں آگے قدم بڑھاتا ہے۔پس آج کے خطبہ کے ذریعہ میں دونوں غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔میری اس تحریک کا یہ مطلب نہیں کہ دوست خود ہی کسی کے نام الفضل کا خطبہ نمبر یاسن رائز جاری کرا دیں یا ان اخباروں کے عملہ کو ہدایت کر دیں کہ وہ کسی کے نام ان کی طرف سے اخبار جاری کر دیں۔