خطبات محمود (جلد 23) — Page 475
* 1942 475 خطبات محمود قافلہ سے آملا۔میں سمجھتا ہوں اس کا یہ فعل نہایت ہی اچھا ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔خدام الاحمدیہ نے اس کے لئے انعام مقرر کیا تھا اور تجویز کیا تھا کہ اسے ایک تمغہ دیا جائے مگر اس وقت یہ روایت میرے پاس غلط طور پر پہنچی تھی اس لئے میں نے وہ انعام اسے نہ دیا۔بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ صحیح بات یہ ہے کہ جھنڈا اس کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا بلکہ دوسرے کے ہاتھ سے گرا تھا۔پہلے مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ اسی کے ہاتھ سے جھنڈ ا گر ا تھا۔بہر حال یہ ایک نہایت ہی قابل تعریف فعل ہے۔خدام الاحمدیہ سے ہمیشہ اس بات کا اقرار لیا جاتا ہے کہ وہ شعائر اللہ کا ادب اور احترام کریں گے۔اسی طرح قومی شعائر کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔اس اقرار کو پورا کرنے میں لاہور کے اس نوجوان نے نمایاں حصہ لیا ہے اور میں اس کے اس فعل کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس نوجوان کا نام مرزا سعید احمد ہے اور اس کے والد کا نام مرزاشریف احمد ہے۔بظاہر یہ سمجھا جائے گا کہ اس نوجوان نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا مگر جہاں قومی شعائر کی حفاظت کا سوال ہو وہاں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور در حقیقت وہی لوگ عزت کے مستحق سمجھے جاتے ہیں جو اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وہ لوگ جو اپنی جان کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں کی جانیں دنیا میں سب سے زیادہ سستی اور بے حیثیت سمجھی جاتی ہیں۔آخر غلام قومیں کون ہوتی ہیں، وہی لوگ غلام بنتے ہیں جو اپنی جانوں کو قربان کرنے سے ڈرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم مر نہ جائیں۔وہ ایک وقت کی موت قبول نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ انہیں بعض دفعہ صدیوں کی موت دے دیتا ہے۔غدر کا مشہور واقعہ ہے کہ انگریزوں نے ظفر شاہ جیو کی ایک بیوی پر اثر ڈالا ہو ا تھا جو بادشاہ کو بہت پیاری تھی اور اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تُو نے ہمارا ساتھ دیا تو ہم تیرے بیٹے کو بادشاہ بنا دیں گے۔اس لڑائی میں ایک وقت انگریزی فوج نے ایک ایسی جگہ تو ہیں لگائیں جہاں سے قلعہ پر کامیاب حملہ کیا جا سکتا تھا۔ان توپوں پر ایک ایسی جگہ سے زد پڑتی تھی جو ملکہ کے محل کے سامنے تھی اس جگہ تو ہیں لگادی جاتیں تو انگریزی حملہ بیکار ہو جاتا تھا۔انگریز سمجھتے تھے کہ اگر اس موقع پر شاہی قلعہ کے اس مقام سے گولہ باری کی گئی حمد محمد بہادر شاہ ظفر (1869-1775ء) اردو جامع انسائیکلو پیڈیا