خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 34

* 1942 34 خطبات محمود جماعت پچھلے سال سے بڑھ کر رہے گی اور اپنی قربانی کے معیار کو بلند کر کے نہ صرف اپنا مقام قائم رکھنے کی کوشش کرے گی بلکہ اسے پہلے سے بھی بڑھا کر دکھا دے گی۔پھر ہمارے ہزاروں بھائی ایسے ہیں جو میدانِ جنگ میں گئے ہوئے ہیں ان تک اخبار نہیں پہنچ سکتا کہ اس ذریعہ سے انہیں تحریک کا علم ہو اور دفتر کے پاس ان کے پتے نہیں ہیں کہ براہ راست ان کو تحریک کی جاسکے اور چونکہ ان ہندوستانی افراد اور ہندوستانی جماعتوں کے لئے جو ہندوستان سے باہر ہیں وعدوں کی آخری تاریخ 30 اپریل ہے اور ان جنگ پر جانے والے احمدیوں میں سے کسی کا باپ ہندوستان میں موجود ہے کسی کا بیٹا موجود ہے کسی کا بھائی موجود ہے اور کسی کا کوئی اور عزیز اور دوست موجود ہے اور انہیں اپنے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے پتے معلوم ہیں۔اس لئے میں ایسے تمام دوستوں کو توجہ دلاتاہوں کہ چونکہ باہر اخبارات نہیں پہنچ سکتے اس لئے وہ خطوط کے ذریعہ اپنے اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور دوستوں کو اطلاع دے دیں کہ تحریک جدید کے آٹھویں سال کے آغاز کا اعلان ہو چکا ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وعدوں کی اطلاع یہاں بھجوادیں۔میں اس موقع پر اس امر پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ میری تحریک پر بعض لوگوں نے اپنے چندوں میں نمایاں طور پر اضافہ کیا ہے چنانچہ تین چار دن ہوئے ایک دوست کی طرف سے خط آیا کہ پہلے انہوں نے 108 روپے کا وعدہ کیا تھا مگر پھر میری اس تحریک پر کہ وعدوں میں اضافہ کرنا چاہئے انہوں نے 108 کی بجائے 337 روپے کا وعدہ کر دیا جو پہلے وعدہ سے تین گنے سے بھی زیادہ ہے۔اسی طرح اور بھی کئی دوست ہیں جنہوں نے نمایاں اضافوں کے ساتھ وعدے کئے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عجیب قدرت ہے کہ غرباء میں قربانی کی مثالیں زیادہ پائی جاتی ہیں حالانکہ قحط کی وجہ سے غرباء سخت تنگی سے گزارہ کر رہے ہیں اور ان کی مالی حالت کمزور ہے۔شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ جانتا ہے کہ اس کے غریب بندے دنیا میں تکالیف سے دن گزار رہے ہیں اس لئے وہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کے گھر کو بہتر بنادے اور اسی لئے وہ ان کے دل میں دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کا جوش پیدا کر دیتا ہے تاکہ ان کی دنیوی تکالیف کا آخرت میں ازالہ ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی