خطبات محمود (جلد 23) — Page 336
* 1942 336 خطبات محمود پہنچتا تھا۔آج گو جنگ کا زمانہ ہے مگر ایسے ذرائع آج بھی ہیں اور ایسے ممالک بھی ہیں جو جنگ میں شامل نہیں، ان تک روپیہ پہنچانا اور پھر ان کے ذریعہ مختلف رنگوں میں مثلاً تجارتی رنگ میں یہاں لانا مشکل نہیں اور جاپان، جرمنی، اٹلی سب اس طرح شورش کرنے والوں کی مدد کریں گی اور کوئی تعجب نہیں کہ ان ملکوں نے پہلے سے ہی ہندوستان کا روپیہ خرید کر رکھا ہوا ہو کہ ضرورت کے وقت باغیوں تک پہنچا سکیں اور غیر جانبدار ممالک کے ذریعہ روپیہ پہنچایا جا سکتا ہے۔یہ طاقت جو اب کانگرس کو حاصل ہے پہلے نہ تھی۔تیسری بات جو اس وقت کا نگرس کے حق میں ہے یہ ہے کہ اس وقت انگریز دلجمعی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہندوستان کے دونوں طرف دشمن ہیں۔اگر اس وقت وہ اندرونی لڑائی میں مصروف ہو جائیں تو بیرونی دشمنوں کا مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔اس لئے وہ بے دلی سے لڑیں گے سوائے اس کے کہ اس دفعہ وہ اس جنگ کو بھی واقعی جنگ سمجھ لیں۔پہلے تو یہی ہو تا رہا ہے کہ وہ درمیان میں آکر ہتھیار ڈال دیتے رہے ہیں۔گاندھی جی نے روزہ رکھا اور انگریزوں کی قوتِ مقابلہ فوراً سلب ہو گئی۔وہی گاندھی آج بھی موجود ہے اور آج بھی روزہ رکھا جاسکتا ہے تو اس وقت انگریزوں کے لئے پوری طرح لڑنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ وہ ہمت مردانہ سے کام لیں اور عواقب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مقابلہ کریں کیونکہ اگر اندرونی گڑ بڑ شروع ہو جائے تو تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور اس وقت سے زیادہ خطر ناک وقت اور کونسا ہو سکتا ہے جب دائیں بھی دشمن ہیں اور بائیں بھی دشمن ہیں اور ملک کے اندر اکثریت فساد پر آمادہ ہے۔پہلے تو لوگ آپس میں ہی ایک دوسرے سے لڑنے کی تیاریاں یا بچاؤ کی صورتیں سوچتے تھے مگر وہ مقامی صورتیں تھیں لیکن یہ ایک ایسا فتنہ اٹھنے والا ہے جو سارے ہندوستان کو لپیٹ کر لے جائے گا۔کانگرسی اور گاندھی جی کے معتقد صرف بنگال میں نہیں ہیں، صرف مدراس میں نہیں ہیں، صرف بہار یا یو پی میں نہیں، صرف پنجاب یا سندھ یاسر حد میں نہیں ہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہیں۔وہ شہروں میں بھی ہیں اور دیہات میں بھی، پہاڑوں پر بھی ہیں اور میدانوں میں بھی ہیں۔اس لئے اس آگ کو قبول کرنے کے لئے ہر جگہ ایندھن موجود ہے۔تنکوں کے ڈھیر ہر جگہ پڑے ہیں اور ان کے ہمسایہ میں رہنے والے ہر جگہ خطرہ