خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 328

خطبات محمود 328 * 1942 ملے گی پھر وہ دوسری دکان پر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ دیا سلائی چاہئے۔وہ دکاندار بھی جواب دیتا ہے کہ دیا سلائی تو ختم ہو چکی ہے۔ہاں اگر آپ لینا چاہیں تو آپ کو فلاں سیٹھ کی دکان سے ملے گی۔آخر اسی طرح دس بیس دکانوں پر وہ جاتا ہے اور جب کسی دکان۔بھی اسے دیا سلائی نہیں ملتی تو اس پر اس بات کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اب مجھے دیا سلائی جس قیمت پر بھی مل جائے لے لینی چاہئے۔چنانچہ وہ اسی دکان پر جاتا ہے جس کا سب نے پتہ بتایا ہوتا ہے اور وہی دیا سلائی جو چار آنے گرس ہوتی ہے وہ دکاندار چھ آنے گرس پر دیتا ہے اور خریدار اس قیمت پر بھی دیا سلائی کا میتر آنا غنیمت سمجھ کر خرید لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے یہاں سے بھی دیا سلائی نہ لی تو پھر مجھے کہیں سے نہیں ملے یہ فائدہ جو بوہروں کو حاصل ہے۔در حقیقت انہیں اپنے جتھے کی وجہ سے حاصل ہے۔علاوہ ازیں اس میں اس بات کا بھی ایک حد تک دخل ہوتا ہے کہ بالعموم بڑے شہروں میں باہر سے جو تاجر سودا خریدنے کے لئے آتے ہیں۔وہ شہر کے خاص خاص حلقوں سے ہی سودا خریدنے کے عادی ہوتے ہیں اور اگر ان حلقوں میں انہیں کسی چیز کے متعلق یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کسی اور دکان سے نہیں بلکہ فلاں دکان سے ہی مل سکتی ہے تو وہ اس اثر کے ماتحت جو اس حلقہ سے انہوں نے قبول کیا ہوا ہوتا ہے۔اسی دکان پر چلے جاتے ہیں اور وہ دکاندار زیادہ گراں قیمت پر چیز فروخت کر کے نفع خود رکھ لیتا اور اصل قیمت مالکوں کو واپس کر دیتا ہے اور اس طرح تھوڑے دنوں کے اندر اندر پھر ہزاروں لاکھوں روپیہ کا مالک ہو جاتا ہے۔اسی طرح ہ بعض دفعہ کسی کو مٹی کے تیل کا ٹھیکہ دے دیتے ہیں۔بعض دفعہ کوئی اور چیز فروخت کرنے کے لئے دے دیتے ہیں اور باقی تمام قوم کے افراد سختی سے اس بات کی پابندی کرتے ہیں کہ خود اس چیز کو فروخت نہ کریں۔اب بظاہر یہ ایک قربانی معلوم ہوتی ہے مگر در حقیقت یہ ہر ایک کے فائدہ اور ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔کسی کو کیا پتہ کہ کل اس کی کیا حالت ہو جائے اور اگر آج اس کا لاکھوں روپیہ کا کاروبار ہے۔تو کل اس کی تجارت گر جائے اور اس کی مالی حالت کمزور ہو جائے۔ایسی حالت میں یہی قانون اس کی ترقی کا بھی موجب بن سکتا ہے۔پس گو یہ ایک قربانی وہ