خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 303

* 1942 303 خطبات محمود فوج میں بھرتی نہیں ہوتیں۔اس نے کہا آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں۔میں نے اپنے اتنا کو لکھا ہے کہ انہیں اجازت دے دیں کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں۔تب مجھے سمجھ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔در حقیقت ہماری ہندوستانی عورت شرم کی وجہ سے اپنے خاوند کا نام نہیں لیا کرتی۔اس نے بھی اپنے خاوند کا نام تو نہ لیا صرف یہ کہا کہ میں نے اپنے ابا کو لکھا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔مطلب یہ تھا کہ میں نے اپنے خاوند کے متعلق انہیں لکھا ہے کہ وہ انہیں بھرتی کرا دیں مگر چونکہ ہماری عورتیں شرم کے مارے اپنے خاوند کا نام نہیں لیتیں اس لئے اس کی بات سن کر پہلے تو میں سمجھا کہ شاید اس نے اپنے ابا کو لکھا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو جائیں پھر جب میں نے کہا کہ وہ تو بوڑھے ہیں تو اس نے ایسا جواب دیا جس سے میں یہ سمجھا کہ شاید اس نے اپنے متعلق یہ لکھا ہے کہ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دے دیں اور جب اس کے متعلق بھی میں نے کہا کہ عورتیں تو فوج میں بھرتی نہیں ہو تیں تب اس نے جو جواب دیا اس سے میں یہ سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے، جس کا ابھی رخصتانہ بھی نہیں ہوگا، چاہتی ہوں کہ سلسلہ کی روایات کو قائم رکھنے کے لئے اپنے خاوند کو فوج میں بھجوا دوں اور اس کے متعلق میں نے اپنے ابا کو خط لکھ دیا ہے کہ وہ انہیں فوج میں بھرتی کرا دیں۔تب میں نے سمجھا کہ اگر ایک کمزور دل عورت اس قسم کی بہادری دکھا سکتی ہے اور وہ اپنے سہاگ کے آنے سے پہلے ہی اس کو لٹانے کے خطرہ میں ڈال سکتی ہے تو مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے دوسرے افراد بھی ایسی ہی جرآت اور بہادری دکھائیں گے۔پھر مجھے ان دوستوں نے جو بھرتی کے لئے باہر دورہ پر گئے ہوئے تھے سنایا کہ ایک عورت جس کا ایک ہی بچہ تھا وہ اسے لائی اور کہنے لگی۔میرے اس بچہ کو احمد یہ کمپنی میں بھرتی کیا جائے۔وہ کہتے ہیں ہم نے اسے کہا مائی تیرا ایک ہی بچہ ہے تو اس کو بھرتی نہ کرا۔جن کے دو دو، تین تین بچے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنا ایک ایک بچہ بھرتی کرا دیں مگر اس نے اصرار کیا اور کہا کہ میں اسے ضرور بھیجوانا چاہتی ہوں اور کہا کہ جب احمدیت کے فائدہ اور اس کی ترقی کے لئے خلیفة المسیح یہ تحریک کر رہے ہیں تو میں اس ثواب میں شامل ہونے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔اسی طرح انہوں نے سنایا کہ ایک شخص کے دولڑ کے تھے۔وہ ان دونوں